سلسلہ احمدیہ — Page 476
476 دوستوں نے نماز جمعہ میں شرکت کی۔۲۵ جون کو حضرت مصلح موعودؓ بذریعہ ہوائی جہاز جرمنی کے شہر ہمبرگ کے لئے روانہ ہوئے۔ہوائی جہاز سوا تین بجے سکفول (Schiphol) کے ہوائی اڈے سے روانہ ہوا اور تقریباً ساڑھے چار بجے ہمبرگ کے ہوائی اڈے پر پہنچا۔اس روز ہمبرگ میں مطلع ابر آلود تھا۔یہاں کے مبلغ عبد الطیف صاحب اور نو مسلم عبدالکریم ڈنکر صاحب نے حضور کا استقبال کیا۔حضور کا قیام ہوٹل Europesharhof میں تھا۔ہوٹل پہنچ کر حضور کچھ دیر تک یہاں کے نومسلم جرمن احباب سے گفتگو فرماتے رہے۔اگلے روز حضرت خلیفتہ اسیح الثانی ہمبرگ یونیورسٹی کے مشہور Neurologist ڈاکٹر پیٹے (Pette) کو دکھانے کے لئے تشریف لے گئے۔ڈاکٹر صاحب نے معائنہ کے بعد رائے دی کہ اب حضور کی صحت کافی بہتر ہے۔البتہ آئندہ کام کی زیادتی کو کم کرنے کی ضرورت ہے۔اس کے بعد ایک پریس فوٹو گرافر نے حضور سے کچھ فوٹوز لینے کے لئے درخواست کی اور حضور نے اس درخواست پر تصویریں کھچوائیں جو بعد میں اخبارات نے شائع کیں۔اور اس کے بعد ایک زیر تبلیغ مستشرق نے علیحدگی میں حضرت مصلح موعود سے ملاقات کی اور اسلام قبول کر کے بیعت کر لی لیکن ساتھ یہ درخواست کی کہ فی الحال ان کی بیعت کو مخفی رکھا جائے۔جب حضور ساتھ والے کمرے میں نماز کے لئے تشریف لے گئے ، جہاں مختلف نو مسلم دوست آئے ہوئے تھے تو یہ صاحب خود ہی نماز میں شامل ہو گئے۔اس طرح انہوں نے خود ہی اپنے قبول اسلام کو ظاہر کر دیا۔ان کا اسلامی نام زبیر رکھا گیا۔اس روز حضور دیر تک مقامی احمدی احباب سے گفتگو فرماتے رہے۔اور ہمبرگ میں مسجد کی تعمیر کے سلسلے پر بھی گفتگو ہوتی رہی۔جرمنی میں قیام کے دوران حضور نے بعض ماہر ڈاکٹروں سے اپنی بیماری کی بابت مشورہ کیا۔ایک ماہر Dr۔Pette نے حضور کا تفصیلی معائنہ کیا اور حضور کی صحت یابی پر اطمینان کا اظہار کیا اور مشہور سرجن ڈاکٹر جمپر (Jumper) نے رائے دی کہ چاقو کی نوک جو اندر رہ گئی تھی اسے نکالنے کی ضرورت نہیں۔بعض پریس کے نمائندوں نے حضور سے ملاقات کر کے انٹرویو لئے۔ان میں Contipress کے نمائندے اور مشہور صحافی مسٹر Pirath بھی شامل تھے۔Dr۔Ahel اور Mr۔Kamour جیسے نمایاں مستشرق بھی حضور سے ملاقات کے لئے آتے رہے۔Mr۔Kamour پر تو حضور سے ملاقات کا ایسا اثر ہوا کہ انہوں نے دوسری ملاقات میں ہی بیعت کر کے اسلام قبول