سلسلہ احمدیہ — Page 47
۴۷ نے تو دجال کا لفظ نہیں لکھا حالانکہ وہ اپنی کتاب اندرونہ بائبل میں یہ لفظ استعمال کر چکا تھا ) اس وقت آتھم کی یہ حالت تھی کہ اسے مجلس سے اٹھنا محال ہو گیا اور دوسرے لوگوں نے سہارا دے کر اٹھایا اور پھر اس کے بعد آتھم نے اپنی زبان اور قلم کو اسلام کے خلاف بالکل روک لیا اور یہ پندرہ مہینے انتہائی گھبراہٹ اور خوف میں گزارے اور بعض اوقات وہ علیحدگی میں بیٹھ کر روتا بھی تھا اور اضطراب کی حالت میں ایک شہر سے دوسرے شہر کی طرف بھاگا پھرتا تھا تی کہ عیسائیوں کو یہ اندیشہ پیدا ہو گیا کہ وہ اپنی گھبراہٹ میں کوئی ایسا لفظ نہ منہ سے نکال بیٹھے جو ان کے لئے تذلیل کا موجب ہو چنانچہ بعض روایات سے پتہ لگتا ہے کہ میعاد کے آخری ایام میں وہ اسے اکثر وقت مخمور رکھتے تھے اور کسی غیر شخص سے ملنے نہیں دیتے تھے۔غرض آتھم نے اپنے حرکات و سکنات سے ثابت کر دیا کہ وہ دل میں اسلام کی صداقت سے مرعوب ہو چکا ہے اور حضرت مسیح موعود کی پیشگوئی کا خوف اس پر غالب ہے اور یہ کہ وہ شوخی اور مخالفت کے اس مقام سے پیچھے ہٹ گیا ہے جس پر وہ مناظرہ سے پہلے اور مناظرہ کے دوران میں قائم تھا۔اس پر اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود کو بذریعہ الہام اطلاع دی کہ اطلع الله علی همه و غمه لا یعنی خدا تعالیٰ آتھم کے غم اور اس کے فکر و اضطراب کو دیکھ رہا ہے اور اس کی اس حالت سے بے خبر نہیں۔جس میں یہ اشارہ تھا کہ اب آتھم صاحب پیشگوئی کے ان الفاظ سے فائدہ اٹھائیں گے کہ بشر طیکہ وہ حق کی طرف رجوع نہ کرے۔“ چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ خدا کے رحم نے اس کے غضب کی جگہ لے لی اور آتھم صاحب اس وقت موت کے ہادیہ میں گرنے سے بچ گئے۔مگر بجائے اس کے کہ مسیحی لوگ اس سے فائدہ اٹھاتے انہوں نے آسمان سر پر اٹھا لیا اور شور کرنا شروع کیا کہ پیشگوئی غلط نکلی کیونکہ آتھم میعاد کے اندر نہیں مرا۔اس پر حضرت مسیح موعود نے اشتہار پر اشتہار شائع کیا کہ یہ پیشگوئی قطعی نہیں تھی بلکہ مشروط تھی اور آتھم نے اپنے حالات سے ثابت کر دیا ہے کہ اس نے پیشگوئی کے رعب سے خائف ہو کر اپنی سابقہ حالت سے رجوع کیا ہے اور آپ نے لکھا کہ اگر کسی کو شبہ ہو کہ آتھم نے رجوع نہیں کیا تو اس کا آسان علاج یہ ہے کہ آتھم صاحب خدا ے انوار الاسلام۔روحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۲