سلسلہ احمدیہ — Page 24
۲۴ کے لئے آسمان میں حرکت ہو رہی ہے اور یہ کہ شیطانی فوجوں پر خدا کی فوجیں حملہ آور ہونے کو تیار ہیں۔چنانچہ روایتوں سے پتہ لگتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کی پیدائش کے وقت بھی اسی طرح کا نظارہ آسمان میں نظر آیا تھا۔لے اور بعض اوقات ستاروں کے ٹوٹنے کی بجائے اجرام سماوی میں بعض اور قسم کے نشان بھی نظر آتے ہیں جیسا کہ مثلاً حضرت مسیح ناصری کی پیدائش کے وقت ایک خاص قسم کا ستارا نظر آیا تھا جسے بعض مجوسی لوگ دیکھ کر مسیح کی تلاش کے لئے نکل کھڑے ہوئے تھے۔سے اور پھر عجیب بات یہ ہے کہ حضرت مسیح ناصری نے اپنی آمد ثانی کے لئے خاص طور پرستاروں کے ٹوٹنے کو بطور نشان کے بیان کیا ہے چنانچہ فرماتے ہیں:۔سورج تاریک ہو جائے گا اور چاند اپنی روشنی نہ دے گا اور آسمان سے ستارے گریں گے اور جو قو تیں آسمان میں ہیں وہ ہلائی جائیں گی اور اس وقت لوگ ابن آدم کو بڑی قدرت اور جلال کے ساتھ بادلوں میں آتے دیکھیں گے۔‘س حضرت مسیح ناصری کے اس قول میں جو سورج اور چاند کے روشنی نہ دینے کا ذکر ہے اس سے مرادان کو گرہن لگتا ہے جو وہ بھی مسیح موعود کے لئے بطور ایک علامت کے مقرر تھا چنانچہ ہم آگے چل کر دیکھیں گے کہ ۱۸۹۴ء میں سورج اور چاند کو گرہن لگا جو عین ان تاریخوں کے مطابق تھا جو اسلامی صحیفوں میں پہلے سے بتائی گئی تھیں اور انجیل کے الفاظ میں جو یہ ذکر ہے کہ مسیح کا نزول بادلوں میں سے ہو گا اس سے یہ مراد ہے کہ گو اپنی ذات میں مسیح کا نزول قدرت اور جلال کے رنگ میں ہوگا اور آسمانی طاقتیں بڑی شان و شوکت کے ساتھ حرکت میں آئیں گی لیکن شروع شروع میں دنیا کی نظر میں مسیح کا نزول ایسا ہوگا کہ گویاوہ بادلوں میں مستور ہو کر دھندلی روشنی میں اتر رہا ہے لیکن بعد میں آہستہ آہستہ بادلوں کے چھٹ جانے سے روشنی ترقی کرتی جائے گی۔ا زرقانی جلد اصفحه ۱۲۲ ۱۲۳ ذکر تزوج عبدالله آمنة و ولادته الله و عجائب مارأت متی باب ۲ ۳ مرقس باب ۱۳ آیت ۲۴ تا ۲۶