صفات باری تعالیٰ — Page 134
عباد الرحمان کی خصوصیات ۳۴ اے اللہ تعالیٰ ہماری ازواج ، ہماری اولا د کو ہمارے لئے آنکھوں کی ٹھنڈک کا موجب بنادے۔یہ ضروری ہوا کہ اس تسکین اور اطمینان ، خوشی ،ٹھنڈک کو حاصل کرنے کے لئے کوشش کی جائے اور آل و اولاد نیکی کے راستہ پر گامزن ہو کر خدا تعالیٰ کے مقرب بن جائیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں : اولاد کی خواہش صرف نیکی کے اصولوں پر ہونی چاہیے اس لحاظ سے اور خیال سے نہ ہو کہ وہ ایک گناہ کا خلیفہ باقی رہے۔۔۔۔اولاد کی تربیت اور ان کو عمدہ اور نیک چلن بنانے اور خدا تعالیٰ کے فرمانبردار بنانے کی سعی اور فکر کریں نہ ان کے لئے دعا کرتے ہیں اور نہ مراتب تربیت کو مدنظر رکھتے ہیں۔میری اپنی تو یہ حالت ہے کہ میری کوئی نماز ایسی نہیں ہے جس میں اپنے دوستوں اور اولاد اور بیوی کے لئے دعا نہیں کرتا۔بہت سے والدین ایسے ہیں جو اپنی اولا دکو بری عادتیں سکھا دیتے ہیں۔ابتداء میں جب بھی بدی کرنا سیکھنے لگتے ہیں تو ان کو تنبیہ نہیں کرتے نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ دن بدن دلیر اور بے باک ہوتے جاتے ہیں۔ایک حکایت بیان کرتے ہیں کہ ایک لڑکا اپنے جرائم کی وجہ سے پھانسی پر لٹکایا گیا اس آخری وقت میں اس نے خواہش کی کہ میں اپنی ماں سے ملنا چاہتا ہوں جب اس کی ماں آئی تو اس نے ماں کے پاس جا کر اسے کہا کہ میں تیری زبان چوسنا چاہتا ہوں۔جب اس نے زبان نکالی تو اسے کاٹ کھایا۔دریافت کرنے پر اس نے کہا اسی ماں نے مجھے پھانسی پر چڑھایا ہے کیونکہ اگر یہ مجھے پہلے ہی روکتی تو آج میری یہ حالت نہ ہوتی۔غرض اللہ تعالیٰ نے اولاد کی خواہش کو اس طرح پر قرآن میں بیان فرمایا ہے۔رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ