صدق المسیح — Page 25
هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْأُمِّيِّينَ رَسُولًا مِنْهُمْ۔۔۔وَاخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ وَهُوَ العَزِيْزُ الْحَكِيمُ۔( سورة الجمعة ركوع : ۱) ترجمہ: وہی خدا ہے جس نے ایک ان پڑھ قوم کی طرف اسی میں سے ایک شخص کو رسول بنا کر بھیجا جو اُن کو خدا کے احکام سناتا ہے اور اُن کو پاک کرتا ہے اور اُن کو کتاب اور حکمت سکھاتا ہے گو وہ اس سے پہلے بڑی بھول میں تھے اور اُن سے سوا ایک دوسری قوم میں بھی وہ اُسکو بھیجے گا جو ابھی تک اُن سے ملی نہیں اور وہ غالب اور حکمت والا ہے۔صحابہ کرام نے جب دریافت کیا کہ یا رسول اللہ یہ آخرین کون ہیں تو مجلس میں حضرت سلمان فارسی موجود تھے حضور نے اُن کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر فرمایا: لَوْ كَانَ الْإِيْمَانُ مُعَلَّقًا بالقُرَيَّا لَنَا لَهُ رَجُلٌ أَوْ رِجَالٌ مِّنْ فَارِسَ ( بخاری شریف کتاب التفسیر ) و یعنی اگر ایک وقت ایمان ثریا پر بھی چلا جائیگا تو اہل فارس کی نسل میں سے ایک یا ایک سے زیادہ لوگ اسے واپس لے آئیں گے۔“ آپ نے اس طرف اشارہ فرمایا کہ میری دوسری بعثت اُسوقت ہوگی جب ایمان دُنیا سے اُٹھ جائیگا اور مسلمان میری تعلیم سے دور چلے جائیں گے۔آخرین میں رسول اکرم کی بعثت سے اشارہ ایک مصلح کے ظہور کی طرف ہے جو رسول کریم کا بروز کامل ہوگا اور اُسکا ظہور اُس وقت ہوگا جب اُمت محمدیہ میں فتنوں کا زور ہوگا اسی بروز کامل وجود کو آنحضرت نے مسیح اور مہدی کے نام سے یاد فرمایا ہے۔چنانچہ رسول اکرم فرماتے ہیں: إِذَا تَظَاهَرَتِ الْفِتَنُ وَاَغَادَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا يَبْعَثُ اللَّهُ الْمَهْدِيَّ يَفْتَحُ حُصُوْنَ الضَّلَالَةِ وَقُلُوْبًا غُلْفًا يَقُوْمُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ 25