شہدآء الحق — Page 149
۱۴۹ گورنر مذکور ایام گرما میں وزیر باغ میں رہائش رکھتے تھے۔جو وزیر فتح خان برادر کلاں سردار سلطان محمد خان نے بنوایا تھا۔اس میں شاہی محلات تھے۔جواب مٹ چکے ہیں۔یہ باغ کو ہائی دروازہ سے کوئی نصف میل کے فاصلہ پر جنوب کو واقع ہے۔جن ایام میں حضرت سید احمد بریلوی بمعہ مجاہدین سرحد میں بغرض جهاد مقیم تھے۔سردار سلطان محمد خان پشاور میں حاکم تھے۔سردار یار محمد خان حاکم اتمان تھے۔اور زیدہ میں مقیم تھے۔سردار پیر محمد خاں یوسفزائی کے حاکم تھے۔اور ہوتی میں مقیم تھے سردار سید محمد خان ہشت فقیر کے حاکم تھے۔اور بالا حصار چارسدہ میں مقیم تھے۔یہ سب عباسی سردارانِ پشا ور کہلاتے تھے۔سردار سلطان محمد خان کے قریباً بیس فرزند تھے۔جن میں سردار عباس خاں ، سردار ذکریا خان، سردار محمد یکی خان، سردار عبدالقدوس خان مشہور افراد ہیں۔جب سرحد میں مہاراجہ رنجیت سنگھ مسلط ہو گیا۔تو سردار سلطان محمد خان پشا ور سے کابل چلے گئے۔اور وہیں فوت ہوئے اور لب سڑک پشاور کا بل نزدیک چمن حضوری ایک گنبد کے اندر سلطان محمد خان کی قبر ہے۔خاکسار نے جب کابل میں یہ قبر دیکھی تو خستہ حالت میں تھی۔قریب ہی اعلیٰ حضرت محمد نادر خان کا مدفن ہے جو فوجی قلعہ کے باہر ہے۔اس خاندان کے اور افراد بھی وہیں دفن ہیں۔سردار محمد سمی خان امیر عبدالرحمن کے تخت نشینی کے ایام میں کابل سے پشاور تشریف لائے اور پھر پشاور سے ہندوستان چلے گئے۔اور اکثر حصہ عمر