شہدائے لاہور کا ذکر خیر

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page vii of 243

شہدائے لاہور کا ذکر خیر — Page vii

15 35 خطبه جمعه فرموده 4 رجون 2010ء لاہور کی احمد یہ مساجد پر حملہ کے نتیجہ میں شہید اور زخمی ہونے والوں کی جرأت و بہادری، عزم و ہمت اور ان کے پسماندگان کے صبر واستقامت کے عظیم الشان اور درخشندہ نمونے۔شہدائے لاہور کی قربانیوں کا دلگد از تذکرہ۔یہ صبر ورضا کے پیکر اپنے زخموں اور ان سے بہتے ہوئے خون کو دیکھتے رہے لیکن زبان پر حرف شکایت لانے کی بجائے دعاؤں اور درود سے اپنی اس حالت کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کا ذریعہ بناتے رہے۔احمدی خدا تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ صبر اور دعا کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی مدد مانگنے والے اور اس کی پناہ میں آنے والے لوگ ہیں۔خلافت کے جھنڈے تلے جمع ہونے والے لوگ ہیں۔یہ اس مسیح کے ماننے والے ہیں جو اپنے آقا ومطاع حضرت محمد مصطفی اصلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کو دنیا میں رائج کرنے آیا تھا۔ہمارا کام صبر اور دعا سے کام لینا ہے اور انشاء اللہ تعالیٰ ہر احمدی اس پر کار بند رہے گا۔احمدیوں کے خلاف دہشتگر دی کو قانون کا تحفظ حاصل ہے۔اللّهُمَّ إِنَّا نَجْعَلُكَ فِي نُحُوْرِهِمْ وَنَعُوْذُ بِكَ مِنْ شُرُوْرِهِمْ۔اور رَبِّ كُلُّ شَيْءٍ خَادِمُكَ رَبِّ فَاحْفَظْنِيْ وَانْصُرْنِي وَارْحَمْنِي کی دعائیں پڑھیں۔اس کے علاوہ بھی بہت دعائیں کریں۔ان جانے والے ہیروں کو اللہ تعالیٰ نے ایسے چمکدار ستاروں کی صورت میں آسمان اسلام اور احمدیت پر سجا دیا جس نے نئی کہکشائیں ترتیب دی ہیں۔نارووال میں مکرم نعمت اللہ صاحب کو چھریوں کا وار کر کے شہید کر دیا گیا۔شہدائے لا ہورا اور مکرم نعمت اللہ صاحب کی نماز جنازہ غائب۔خطبه جمعه فرموده 11 جون 2010ء لاہور میں جمعہ کے دوران دہشتگردوں کے ظلم وسفا کی کا نشانہ بننے والے شہداء کا در دانگیز تذکرہ۔