شہدائے لاہور کا ذکر خیر — Page xii
177 185 86 مکرم محمد حسین صاحب شہید ابن مکرم نظام دین صاحب ان سب شہداء میں بعض اعلیٰ صفات قدر مشترک کے طور پر نظر آتی ہیں۔مثلاً ان کا نمازوں کا اہتمام اور اپنے بچوں اور گھر والوں کو بھی اس طرف توجہ دلا نا۔تہجد اور نوافل کا التزام، گھریلو زندگی میں اور گھر سے باہر بھی ہر جگہ اخلاق حسنہ کا مظاہرہ۔جماعتی غیرت کا بے مثال اظہار ، اطاعت نظام کا غیر معمولی نمونہ، دین کو دنیا پر مقدم رکھتے ہوئے سارے حقوق کی ادائیگی کے باوجود جماعت کے لئے وقت نکالنا۔پھر یہ کہ خلافت سے غیر معمولی تعلق ،محبت اور اطاعت کا اظہار۔شہداء جو شہادت کے مقام پر پہنچے یقیناً یہ شہادت کا رتبہ ان کے لئے عبادتوں کی قبولیت اور حقوق العباد کی ادائیگی کا حق ادا کرنے کی سند لئے ہوئے ہے۔یہ لوگ تھے جنہوں نے عبادات اور اعمال صالحہ کے ذریعہ سے نظام خلافت کو دائمی رکھنے کے لئے آخر دم تک کوشش کی اور اس میں نہ صرف سرخرو ہوئے بلکہ اس کے اعلیٰ ترین معیار بھی قائم کئے۔ہمارا فرض ہے کہ اپنے اندر پاک تبدیلیاں پیدا کرتے ہوئے ان قربانیوں کا حق ادا کریں۔خطاب فرموده 27 جون 2010ء بر موقع جلسہ سالانہ جرمنی آج بھی جو ظلم جماعت پر پاکستان میں روا رکھا جا رہا ہے اور جس کی انتہائی بہیمانہ اور ظالمانہ صورت لاہور میں احمدیوں پر اجتماعی حملے کی صورت میں سامنے آئی اور حملہ بھی خدا کے گھر میں، خدا کی عبادت کرنے والے نہتے احمد یوں پر۔تو کیا اُس وقت جب حملہ ہو رہا تھا، اُس وقت جس صبر اور حوصلہ اور اضطرار سے احمدی دعائیں کر رہے تھے اور اس کے بعد آج تک احمدیوں میں اضطراری کیفیت قائم ہے اور دعاؤں میں مصروف ہیں، تو کیا خدا تعالیٰ ان دعاؤں کو نہیں سنے گا ؟ سنے گا اور انشاء اللہ یقیناً سنے گا۔یہ اس کا وعدہ ہے۔یہ ظلم جو خدا کے نام پر خدا والوں سے روا رکھا گیا اور رکھا جا رہا ہے، کیا اس بات پر خدا کی غیرت جوش نہیں دکھائے گی ؟ دکھائے گی اور یقینا دکھائے گی۔vii