شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں — Page 55
ہے۔یعنی میں ہی اس کا کارساز ہوتا ہوں۔اگر وہ مجھ سے مانگتا ہے تو میں اس کو دیتا ہوں اور اگر وہ مجھ سے پناہ چاہتا ہے تو میں اسے پناہ دیتا ہوں۔(بخاری کتاب الرقاق باب التواضع) حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ رحیم کرے اس شخص پر جو رات کو اٹھے اور نماز پڑھے اور اپنی بیوی کو اٹھائے۔اگر وہ اٹھنے میں پس و پیش کرے تو اس کے منہ پر پانی چھڑ کے تا کہ وہ اٹھ کھڑی ہو۔اسی طرح اللہ تعالیٰ رحم کرے اس عورت پر جو رات کو اٹھی نماز پڑھی اور اپنے میاں کو جگایا۔اگر اس نے اٹھنے میں پس و پیش کیا تو اس کے منہ پر پانی چھڑکا تا کہ وہ اٹھ کھڑا ہو۔وو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: (ابوداؤد - كتاب الصلوة) ” ہماری جماعت کو چاہئے کہ وہ تہجد کی نماز کو لازم کر لیں۔جو زیادہ نہیں وہ دو ہی رکعت پڑھ لے کیونکہ اس کو دعا کرنے کا موقع بہر حال مل جائیگا۔اس وقت کی دعاؤں میں ایک خاص تاثیر ہوتی ہے کیونکہ وہ بچے درد اور جوش سے نکلتی ہیں۔جبتک ایک خاص سوز اور درد دل میں نہ ہو اس وقت تک ایک شخص خواب راحت سے بیدار کب ہوسکتا ہے؟ پس اس وقت کا اٹھنا ہی ایک درددل پیدا کر دیتا ہے جس سے دعا میں رقت اور اضطراب کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے اور یہی اضطراب اور اضطرار اور قبولیت دعا کا موجب ہو جاتے ہیں۔لیکن اگر اٹھنے میں سستی اور غفلت سے کام لیتا ہے تو ظاہر ہے کہ وہ درد اور سوز دل میں نہیں کیونکہ نیند تو غم کو دور کر دیتی ہے۔لیکن جبکہ نیند سے بیدار ہوتا ہے تو معلوم ہوا کہ کوئی درد اور غم نیند 55