شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 38 of 203

شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں — Page 38

خیانت نہ کرو پھر خیانت کے بارہ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَلَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِيْنَ يَخْتَانُونَ أَنْفُسَهُمْ إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَّانًا أَثِيْمًا﴾ (النساء:١٠٨ )۔اور ان لوگوں کی طرف سے بحث نہ کر جو اپنے نفسوں سے خیانت کرتے ہیں۔یقیناً اللہ سخت خیانت کرنے والے گنہگار کو پسند نہیں کرتا۔ایک حدیث میں ہے۔حضرت ابوھریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔جو تمہارے پاس کوئی چیز امانت کے طور پر رکھتا ہے اس کی امانت اسے لوٹا دو۔اور اس شخص سے بھی ہرگز خیانت سے پیش نہ آؤ جو تم سے خیانت سے پیش آچکا ہے۔(ابوداؤد كتاب البيوع۔باب في الرجل ياخذ حقه۔۔۔۔۔۔) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں : ” دوسری قسم ترک شر کے اقسام میں سے وہ خلق ہے جس کو امانت و دیانت کہتے ہیں۔یعنی دوسرے کے مال پر شرارت اور بدنیتی سے قبضہ کر کے اس کو ایذا پہنچانے پر راضی نہ ہونا۔سو واضح ہو کہ دیانت اور امانت انسان کی طبعی حالتوں میں سے ایک حالت ہے۔اسی واسطے ایک بچہ شیر خوار بھی جو بوجہ اپنی کم سنی اپنی طبعی سادگی پر ہوتا ہے اور نیز باعث صغرسنی ابھی بری عادتوں کا عادی نہیں ہوتا اس قدر غیر کی چیز سے نفرت رکھتا ہے کہ غیر عورت کا دودھ بھی مشکل سے " پیتا ہے۔اسلامی اصول کی فلاسفی روحانی خزائن جلد۱۰ صفحه ۳۴۴) 38