شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 185 of 203

شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں — Page 185

اور خوشحالی ، خوشی اور نا خوشی حق تلفی اور ترجیحی سلوک ، غرض ہر حالت میں تیرے لئے حاکم وقت کے حکم کوسننا اور اطاعت کرنا واجب ہے۔(مسلم کتاب الامارة) حضرت ابن عباس بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص اپنے سردار اور امیر میں کوئی ایسی بات دیکھے جو اسے پسند نہ ہو تو صبر سے کام لے کیونکہ جو شخص جماعت سے ایک بالشت بھی دور ہوتا ہے وہ جاہلیت کی موت مرے گا۔(بخاری کتاب الفتن ـ باب قول النبى سترون بعدی امورا) پھر حضرت عــــرفـجـہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے آنحضرت ل ا ل ا ل کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جب تم ایک ہاتھ پر جمع ہو اور تمہارا ایک امیر ہو اور پھر کوئی شخص آئے اور تمہاری وحدت کی اس لاٹھی کو توڑنا چاہے تا تمہاری جماعت میں تفریق پیدا کرے تو اسے قتل کر دو۔یعنی اس سے قطع تعلق کرو اور اس کی بات نہ مانو۔(اس کے احکامات کو بالکل سنی ان سنی کر دو )۔(مسلم) با ب حكم من فرق امر المسلمين هو مجتمع) حضرت عبادہ بن صامت سے مروی ہے کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کی بیعت اس نکتہ پر کی کہ سنیں گے اور اطاعت کریں گے خواہ ہمیں پسند ہو یا نا پسند۔اور یہ کہ ہم جہاں کہیں بھی ہوں کسی امر کے حقدار سے جھگڑانہیں کریں گے ، حق پر قائم رہیں گے یا حق بات ہی کہیں گے اور اللہ تعالیٰ کے معاملہ میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈریں گے۔(مسلم کتاب الامارة باب وجود طاعة الامراء) 185