شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں — Page 156
ہیں اللہ تعالیٰ ان پر سکینت اور اطمینان نازل کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ کی رحمت ان کو ڈھانپے رکھتی ہے، فرشتے ان کو گھیرے رکھتے ہیں۔اپنے مقربین میں اللہ تعالیٰ ان کا ذکر کرتا رہتا ہے۔جوشخص عمل میں ست رہے اس کا نسب اور خاندان اس کو تیز نہیں بناسکتا۔یعنی وہ خاندانی بل بوتے پر جنت میں نہیں جاسکے گا۔(مسلم كتاب الذكر باب فضل الاجتماع على تلاوة القرآن وعلى الذكر) اس میں شروع میں جو بیان کیا گیا ہے وہ یہی ہے کہ لوگوں کے حقوق کا خیال اور یہ کہ تم اپنے بھائیوں کی بے چینیوں اور تکلیفوں کو دور کرو اور اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسی شفقت کا سلوک تم سے کرے گا اور تمہاری بے چینیوں اور تکلیفوں کو دور کرے گا۔آنحضرت ﷺ کا ہم پر یہ احسان ہے۔فرمایا کہ اگر تم چاہتے ہو کہ اللہ تعالیٰ اپنی مغفرت کی چادر میں تمہیں ڈھانپ لے تو بے چین ، تکلیف دہ اور تنگدستوں کو جس حد تک تم آرام پہنچا سکتے ہو ، آرام پہنچاؤ تو اللہ تعالیٰ تم سے شفقت کا سلوک کرے گا۔اپنے بھائیوں کی پردہ پوشی کرو ، ان کی غلطی کو پکڑ کر اس کا اعلان نہ کرتے پھرو۔پتہ نہیں تم میں کتنی کمزوریاں ہیں اور عیب ہیں جن کا حساب روز آخر دینا ہوگا۔تو اگر اس دنیا میں تم نے اپنے بھائیوں کی عیب پوشی کی ہوگی ، ان کی غلطیوں کو دیکھ کر اس کا چرچا کرنے کی بجائے اس کا ہمدرد بن کر اس کو سمجھانے کی کوشش کی ہوگی تو اللہ تعالیٰ تم سے بھی پردہ پوشی کا سلوک کرے گا۔تو یہ حقوق العباد ہیں جن کو تم ادا کرو گے تو اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے وارث ٹھہر وگے۔پھر حدیث میں آتا ہے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا: صدقہ سے مال میں کمی نہیں ہوتی۔اور جو شخص دوسرے کے قصور 156)