شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 2 of 203

شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں — Page 2

آتا ہے اور ایک دانہ کا ہزار دانہ بنتا ہے۔اسی طرح سے انسان بیعت کنندہ کو اوّل انکساری اور عجز اختیار کرنی پڑتی ہے اور اپنی خودی اور نفسانیت سے الگ ہونا پڑتا ہے تب وہ نشو ونما کے قابل ہوتا ہے لیکن جو بیعت کے ساتھ نفسانیت بھی رکھتا ہے اُسے ہر گز فیض حاصل نہیں ہوتا۔“ (ملفوظات جلد ششم صفحه ۱۷۳) بیعت سے مراد خدا تعالیٰ کو جان سپر د کرنا ہے پھر آپ فرماتے ہیں: ” بیعت سے مراد خدا تعالیٰ کو جان سپرد کرنا ہے۔اس سے مراد یہ ہے کہ ہم نے اپنی جان آج خدا تعالیٰ کے ہاتھ بیچ دی۔یہ بالکل غلط ہے کہ خدا تعالیٰ کی راہ میں چل کر انجام کار کوئی شخص نقصان اٹھا دے۔صادق کبھی نقصان نہیں اٹھا سکتا۔نقصان اسی کا ہے جو کا ذب ہے۔جو دنیا کے لئے بیعت کو اور عہد کو جو اللہ تعالیٰ سے اس نے کیا ہے تو ڑ رہا ہے۔وہ شخص جو محض دنیا کے خوف سے ایسے امور کا مرتکب ہو رہا ہے، وہ یاد ر کھے بوقت موت کوئی حاکم یا بادشاہ اُسے نہ چھڑا سکے گا۔اس نے احکم الحاکمین کے پاس جانا ہے جو اُس سے دریافت کرے گا کہ تو نے میرا پاس کیوں نہیں کیا ؟ اس لئے ہر مومن کے لئے ضروری ہے کہ خداجو ملک السموات والارض ہے اس پر ایمان لاوے اور سچی توبہ کرے۔“ (ملفوظات جلد ہفتم صفحه ۲۹ و ۳۰) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ان ارشادات سے واضح ہے کہ بیعت چیز کیا ہے۔اگر ہم میں سے ہر ایک یہ بات سمجھ جائے کہ میری ذات اب 2