شیخ عجم اور آپ کے شاگرد

by Other Authors

Page 221 of 405

شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 221

221 کہ کیا وہ احمدی ہیں۔انہوں نے حقیقت کو ظاہر کر دیا اور ان کو بیان لے کر چھوڑ دیا گیا۔اس کے چند دن بعد ان کو گرفتار کر لیا گیا اور پھر علماء کی کونسل کے سامنے پیش کیا گیا۔جس نے ۱۱ / اگست کو ان سے بیان لیا کہ وہ احمد کو کیا سمجھتا ہے انہوں نے اپنے عقائد کا اظہار کیا۔جس پر علماء کی کونسل نے ان کو احمدی قرار کر مرتد قرار دیا اور موت کا فتویٰ دیا اس کے بعد ۱۶؎ اگست ۱۹۲۴ ء کو ان کو علماء کی اپیل کی عدالت کے سامنے پیش کیا گیا جس نے پھر بیان لے کر ماتحت عدالت کے فیصلہ کی تائید کی اور فیصلہ کیا کہ نعمت اللہ کو ایک بڑے ہجوم کے سامنے سنگسار کیا جائے۔(۲۱) حضرت مولوی شیر علی صاحب قائمقام امیر قادیان نے ۱۵/اگست ۱۹۲۴ء کو خطبہ جمعہ میں فرمایا کہ حضرت سید نا حضرت خلیفہ مسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے روانگی سے پہلے ایک خطبہ پڑھا تھا جس میں حضور نے یہ خبر سنائی تھی کہ کابل سے مولوی نعمت اللہ خان صاحب کا خط آیا ہے جو ایک تشویش ناک خط ہے۔اس میں وہ لکھتے ہیں کہ مجھے پولیس نے بلایا ہے اور پوچھا ہے کہ کیوں یہاں رہتے ہو اور احمدیت کے متعلق بھی سوالات کئے ہیں جس سے مجھے یہ معلوم ہوتا ہے کہ شاید اس کے نتیجہ میں مجھے قید کریں گے یا قتل کریں گے۔اس پر حضور نے فرمایا تھا کہ احباب دعا کریں کہ خدا تعالیٰ ان کی حفاظت فرمائے یا اگر موت ہی ان کے لئے مقد رہے تو انہیں استقامت دے۔۔۔حضرت صاحب کی روانگی کے بعد ایک دوست کا خط کا بل سے آیا جس سے معلوم ہوا کہ گورنمنٹ کا ہل نے مولوی نعمت اللہ خان کو قید کر لیا ہے۔یہ خبر ہم نے بذریعہ تار حضرت خلیفہ المسیح الثانی کو عدن پہنچائی۔جس کے جواب میں حضور نے تار دیا کہ ہر ممکن صورت نعمت اللہ خان کی رہائی کے متعلق کی جائے۔اس تار کے آنے پر ہم نے رہائی کے لئے کوشش کی اور ایک تارا میر کا بل کو نعمت اللہ خان کی رہائی کے متعلق دیا۔جس کا کوئی جواب امیر نے نہ دیا۔قونصل کا بل متعینہ شملہ کے ذریعہ بھی کوشش کی گئی اور قونصل کی معرفت مولوی نعمت اللہ خاں مرحوم کے متعلق امیر کو چٹھی بھی لکھی گئی۔مگر ان