شعبِ ابی طالب و سفرِ طائف — Page 8
شعب ابی طالب 8 جگہ تھی اسی گھائی کے ایک مکان میں آنحضور صلی ای ام پیدا ہوئے تھے۔حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا مکان بھی یہیں تھا۔اس حصے کو سوق اللیل کہتے تھے۔کفار مکہ کا دباؤ بڑھا تو بنی ہاشم اور بنی مطلب نے اس گھائی کے ایسے حصے میں پناہ لے لی جو تنگ گلی سے مشابہ تھی مکہ والوں نے ان سے مکمل معاشی اور معاشرتی مقاطعہ کر لیا۔اس خشک وادی میں سبزہ اور پانی نہ تھا صرف خشک جھاڑیاں تھیں جہاں اونٹ اور دوسرے جانور چرتے تھے۔شعب ابی طالب میں محصوری کے دن بڑے تکلیف دہ تھے کھانے کو کچھ نہ ہوتا بعض دفعہ درختوں کے پتوں پر گزارا کرنا پڑتا حضرت سعد بن ابی وقاص کا بیان ہے کہ ایک دفعہ رات کو سوکھا ہوا چمڑا ہا تھ آ گیا میں نے اس کو پانی سے دھو یا پھر آگ پر بھونا اور پانی کے ساتھ کھایا ایک دوسرے موقع پر رات کے وقت کسی نرم چیز پر پاؤں پڑا بھوک کا یہ عالم تھا کہ وہ چیز اٹھا کر منہ میں ڈال لی پتہ ہی نہیں وہ کیا چیز تھی ( روز الوقت ) جب بچے بھوک سے روتے تو اُن کی آواز سن کر متریش خوش ہوتے۔(ابن سعد ) مشرکین اس بات کی سخت نگرانی رکھتے کہ کو ئی شخص کسی شکل میں بھی کھانے پینے کا سامان نہ پہنچا سکے۔ایک واقعہ یوں بھی ہوا کہ ایک روز ابو جہل کو راستے میں حکیم بن حزام ملے اُن کے ساتھ ایک غلام تھا جو کچھ گیہوں اٹھائے ہوئے تھا۔جو وہ ام المومنین حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے لئے لے جانا چاہتے تھے۔ابوجہل نے راستہ روک لیا اور کہنے لگا۔کیا تم بنی ہاشم کے پاس کھانا لے کر جاؤ گے۔خدا کی قسم میں تمہیں سارے مکہ میں رسوا کر دوں گا۔