شرح القصیدہ — Page 26
شرح القصيده دو ۲۶ د یعنی اللہ تعالیٰ کے بعد میں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کے عشق میں سرشار ہوں۔اگر یہ کفر ہے تو اللہ تعالیٰ کی قسم میں سخت کا فر ہوں۔میرا ہر رگ وریشہ اس کے عشق کے راگ گا رہا ہے ، میں اپنی خواہشات سے خالی اور اس محبوب کے غم سے پر ہوں۔66 یہی وجہ ہے کہ آپ نے جس انداز میں اللہ تعالیٰ سے اپنے عشق و محبت کا اظہار کیا ہے اُسی انداز میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی۔مثلاً آپ اللہ تعالیٰ کے حضور عرض کرتے ہیں: در کوئے تو اگر سر عشاق را زنند اول کسے کہ لاف تعشق زند منم آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۶۵۸) د یعنی اگر تیرے کوچے میں عاشقوں کے سر اُتارے جائیں، تو وہ پہلا شخص جو تیرے عشق کا نعرہ مارے گاوہ میں ہوں گا۔“ اسی طرح آپ اپنے محبوب حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے ذکر میں فرماتے ہیں: تیغ گر بارد بکوئے آن نگار آن منم کاول کند جان را ثار (سراج منیر روحانی خزائن جلد ۱۲ صفحه ۹۷ ) و یعنی اگر محبوب ( محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) کی گلی میں تلوار چلے تو وہ میں ہوں جو سب سے پہلے اپنی جان قربان کرے گا۔“