شرح القصیدہ — Page 18
شرح القصيده ۱۸ -۴۴- فَاقَ الْوَرى بِكَمَالِهِ وَ جَمَالِهِ وہ سب مخلوقات سے اپنے اپنے کمال اور اپنے جمال و جَلالِهِ وَ جَنَانِهِ الرَّيَّانِ اور اپنے جلال اور اپنے شاداب دل کے ساتھ فوقیت لے گیا ہے ۴۵ لا شك أنَّ مُحَمَّدًا خَيْرُ الْوَرى بے شک محمد صلی اللہ علیہ وسلم بہترین مخلوقات رَيْقُ الْكِرَامِ وَ مُحبَةُ الْأَعْيَانِ اور صاحب کرم و عطا اور شرفا لوگوں کی روح اور ان کی قوت اور چیدہ اعیان ہیں -٤٦ تَمَتُ عَلَيْهِ صِفَاتُ كُلّ مَزيَّةٍ ہر قسم کی فضیلت کی صفات آپ میں علی الوجہ الا تم موجود ہیں خُتِمَتْ بِهِ نَعْمَاءُ كُلِّ زَمَانٍ اور ہر زمانے کی نعمت آپ کی ذات پر ختم ہے۔۴۷۔وَاللهِ اِنَّ مُحَمَّدًا مُحَمَّدًا كَرِدَافَةٍ اللہ تعالیٰ کی قسم یقینا محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی حیثیت خلیفہ اللہ کی ہے وَ بِهِ الْوُصُولُ بِسُنَّةِ السُّلطان اور آپ ہی کے ذریعہ دربارِ شاہی تک رسائی ہوسکتی ہے۔