شان مسیح موعود — Page 74
خلی نبی اور رسول ہیں۔اور ظلی نبوت کا ملہ کا ملتا براہ راست ملنے والی نبوت سے ادنی درجہ نہیں رکھتا۔کیونکہ حضرت اقدس تحریر فرماتے ہیں :- " کتنے ہی کمالات ہیں جو انبیاء میں اصالتاً پائے جاتے ہیں اور ہم کو اُن سے افضل اور اعلیٰ ملتے ہیں مگر فیستی طور پر دلعینی آنحضرت منے اللہ علیہ وسلم سے نبض پاک۔ناقل ) (حمامته البشری صفحه (6) میں حضرت اقدس کا کامل قلی بینی یا امتی بنی ہونا حضرت عیسی علیہ السلام کے بالمقابل کامل شان نبوت رکھنے میں مانع نہیں۔بلکہ آپ کے حضرت عیسی علیہ السلام سے افضل ہونے میں دخیل ہے اور آپ کی نبوت حضرت عیسی علیہ السلام سے افضل ہونے میں دخیل تبھی ہو سکتی ہے جب یہ نبوت حضرت عیسی علیہ اسلام کی نبوت سے کم درجہ کی نہ ہو۔اگر آپ کی نبوت کو شیخ مصری صاحب حضرت عیسی علیہ اسلام سے کم درجہ کی قرار دیتے ہیں تو پھر معاذاللہ حضرت اقدس کا یہ دعوی باطل ہو جاتا ہے کہ آپ اپنی تمام شان میں حضرت مسیح ابن مریم سے بہت بڑھ کر ہیں۔کیونکہ کم درجہ کی نبوت آپ کے فضل ہونے میں دخیل ہو ہی نہیں سکتی بلکہ آپ کے ادنیٰ ہونے کی متقاضی ہوگی اور اپنی تمام شان میں افضل ہونے میں روک ہوگی۔پس حضرت اقدس کا سضرت مسیح ابن مریم سے اپنی تمام شان میں بہت بڑھ کر ہوتا آپ کے کامل خلقی نبی ہونے کو چاہتا ہے۔اور آپ کا کامل خلی نبی ہونا آپ کے نبی ہونے کو مستلزم ہے۔لہذا حضرت اقدسی