شان مسیح موعود — Page 149
۱۴۹ رکھنے کی وجہ اور حکمت بیان کی ہے تو وہ وجہ اور حکمت تو بقول ان کے حضرت انس کا فقلی طور پر تمام انبیاء کے کمالات کا جامع اور وارث ہوتا ہی ہوئی بھن نہیں حضرت عیسی علیہ السلام کے ذاتی کمالات بھی آجاتے ہیں۔لہذا جب ظلمی طور پر حضرت میسج موعود علیہ السلام کا جامع کمالات انبیاء ہو کہ نبی کہلانا آپ کے اپنی تمام شان میں حضرت مسیح ناصری علیہ اسلام سے فضل ہونے کی وجہ اور حکمت ہے۔تو حضرت اقدس کی طلقی نبوت تو پھر حضرت عیسی علیہ السلام کی مستقلہ نبوت سے کم درجہ کی نہ ہوئی کیونکہ اگر حضرت اقدس کی ظلی نبوت آپ کے فلی طور پر جامع کمالات ہونے کے باوجود بوجہ طلبیت کم درجہ کی ہو تو پھر یہ نبوت حضرت اقدس کے حضرت عیسی علیہ السلام سے کمتر اور اونے اور افضل نہ ہونے کی وجہ تو ہو سکتی ہے اپنی تمام شان میں افضلیت کی وجہ ہرگز نہیں ہو سکتی کیونکہ نقص اور کمی تو بہر حال کمتر ہونے کی وجہ ہی ہو سکتی ہے افضل ہونے کی وجہ نہیں ہو سکتی۔شیخ صاحب! آپ خدا را کچھ تو غور کریں کہ آپ کدھر سجارہے ہیں اور ہمیں کیا غیر معقول بات منوانا چاہتے ہیں بیجب آپ کے نزدیک حضرت اقدس نفلی طور پر بجائے کمالات انبیاء ہیں اور ان کمالات میں آپ کی نبوت بھی داخل ہے تو اگر آپ کی نبوت کو ختی نبوت ناقصہ قرار دیا جائے تو پھر آپ کو یہ دعویٰ کرنے کا حق کیسے رہتا ہے کہ ر خدا نے اس امت میں سے پیچ موعود بھیجا جو اس پہلے مسیح سے اپنی تمام شان میں بہت بڑھ کر ہے " دیکھنے ! " اپنی تمام شان میں " آپ کی شان نبوت بھی داخل ہے۔اگر یہ نشان تبرست حضرت مسیح علیہ السلام کے بالمقابل ناقص درجہ کی ہوتی تو آپ ہر گز یہ دعونی نہ کرتے