شان مسیح موعود

by Other Authors

Page 11 of 240

شان مسیح موعود — Page 11

ہیں۔پس ہم میں اور شیخ صاحب میں حضرت اقدس کے مقام نبوت میں کوئی حقیقی نزاع موجود نہیں صرف لفظی نزاع ہی پائی بھاتی ہے یعنی شیخ صاحب جیس حقیقت کو حضرت اقدس کے وجود میں متحقق سمجھتے ہیں۔ہم لوگ بھی اس حقیقت کو حضرت اقدس کے وجود میں تحقیق سمجھتے ہیں۔مگر ہم اس حقیقت کو مطابق " پیشمر معرفت "صفحہ ۳۲۴ ایک قسم کی نبوت سمجھتے ہیں جو نبوت محمدیہ کی خالی ہے گویا ہوا ہے نزدیک کا عملی قلی ثبوت درجه نبوت ، مقام نبوت ، نفس نبوت ، یا نبوت مطلقہ کی ہی ایک قسم ہے۔اور اسی بناء پر ہم حضرت اقدس کو زمرہ انبیاء کا فرد سمجھتے ہیں مگر بغیر شریعت جدیدہ کے شیخ صاحب اس حقیقت کے ایک قسم کی نبوت ہونے سے انکار نہیں کر سکتے کیونکہ اسے خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک قسم کی نبوت قرار دیا ہے جو دراصل پیرایہ جدید میں نبوت محمدیہ ہی ہے۔مگر ہم لوگ اسے درجہ ثبوت یا مقام نبوت کی ہی ایک قسم سمجھتے ہیں۔کیونکہ حضرت اقدس نے اپنے آپ کو خدا کے حکم اور اصطلاح میں نبی قرار دیا ہے۔اور خدا تعالے کی اصطلاح میں نہیں وہی ہوتا ہے جو درجہ نبوت یا مقام نبوت ضرور رکھتا ہو۔پس ہم میں اور شیخ صاحب میں حضرت اقدس کی نبوت میں اختلات محض لفظی نزاع کی حیثیت کا رہ جاتا ہے۔ہمارے نزدیک شیخ مصری صاحب اور اُن کے ہمخیال حضرت اقدام کو کامل ظلی نبی ماننے کی وجہ سے در حقیقت تو حضور کو مقام نبوت پر ہی فائز مانتے ہیں گو وہ آپ کو زمرہ اولیاء کا ہی فرد قرار دیں۔کیونکہ الوصیت کے مطابق حضرت اقدس کی نبوت کی جو کیفیت ہم بیان کرتے ہیں یعنی مکالمہ مخاطیہ کا حملہ قامہ کی وجہ سے حضور کو نبی کا نام ملنا۔اس کا شیخ صاحب بھی حضرت اقدس