شانِ خاتم الانبیأ ﷺ — Page 15
نیز فرماتے ہیں :- کیا یہ حیرت انگیز ماجرا نہیں کہ ایک بے زر، بے زور، بے کس ، مقی، تیم ، تن تنہا ، غریب ، ایسے زمانے میں کہ جس میں ہر ایک قوم پوری پوری طاقت مال اور فوجی اورعلمی رکھتی تھی، اسی رشت علی لایا کہ براہین قاطعہ اور بیج واضحہ سے سب کی زبان بند کر دی۔اور بڑے بڑے لوگوں کو تو حکیم بنے پھرتے تھے اور فیلسوف کہلاتے تھے ، فاش غلطیا سے نکالیں اور پھر باوجود بے کسی اور غریبی کے زور بھی ایسا دکھایا کہ بادشاہوں کو تختوں سے گرا دیا اور انہی تختوں پر غریبوں کو بٹھایا۔اگر یہ خدا کی تائید نہیں تھی تو اور کیا تھی؟ کیا تمام طاقت اور زور میں غالب آجانا بغیر تائید اہل سے بھی محور کرتا ہے ؟ خیال رکھنا چاہتے کہ جب آنحضرت نے پہلے پہل کے کے لوگوں میں منادی کی کہ میں نبی ہوں، اُس وقت اُن کے ہمراہ کون تھا اورکس بادشاہ کا خزانہ ان کے قبضہ میں آگیا تھا کہ جس سے اعتماد کر کے ساری دنیا سے مقابلہ کرنے کی نہ گئی ، یا کسی فون کٹھی کرنی تھی کہ جس پر بھروسہ کر کے تمام بادشاہوں کے حملے سے امن ہو گیا تھا ، ہمارے مخالف بھی جانتے ہیں کہ اُس وقت آنحضرت زمین پر اکیلے اور بے کس اور بے سامان تھے۔صرف اُن کے ساتھ خدا تھا " برا این احمدیہ حصہ دوئم صفحه ۱۲۷ - ۱۳۸ ) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے قریب چھ سو سال قبل حضرت سیے جیسے برگزیدہ نبی نے دعا کی تھی کہ " اے گھدا! جس طرح آسمان پر تیری بادشاہت ہے، اسی طرح زمین پر بھی ہو " آج دنیا کی ایک کثیر آبادی میسوع مسیح کی اطاعت کا دم بھرتی ہے۔اٹلی، افغانستان، فرانس ، سپین، مومنی فلپائن، امریکہ اور آسٹریلیا، برطانیہ اور دیگر حکومتیں آپ کے سامنے عقیدت سے اپنا سر جھکاتی ہیں مگر انہیں سو سال گزر گئے ، حضرت مسیح کے ذریعہ آج تک مخدا کی بادشاہت ہو آسمان پر ہے ، زمین پر قائم نہیں ہو سکی۔لیکن آنحضرت صلی للہ علیہ وسلم کی دعوت الی اللہ کا یہ کمال انجاز ہے کہ