شیطان کے چیلے

by Other Authors

Page 555 of 670

شیطان کے چیلے — Page 555

551 لوگوں سے ٹھن گئی۔چنانچہ وہ دشمنی میں لوگوں کے جانوروں کو ہلاک کرنے لگا۔یعنی جھگڑے کی بنیاد بھی فجور اور عملا جھگڑا بھی فجور ( واذا خاصم فجر )۔نیز اس نے مقامی انتظامیہ کے ساتھ گٹھ جوڑ کر کے، ان کی مدد سے غریب مقامی ماہی گیروں کی زمین بھی ہتھیا لی۔رپورٹ کے مطابق یہ قطعی بات ہے کہ پیر عبدالحفیظ نے اپنے محسن سیٹھ عارف گذور کو دوائیاں کھلا کھلا کر پاگل کر دیا اور اس کی دولت پر قبضہ کر لیا۔یعنی سیٹھ نے تو اس کو امین سمجھ کر اس پر احسان کیا مگر اس نے اسی سے خیانت کی (اذا او تمن خان )۔یوں تو پیر عبدالحفیظ کے بیسیوں جھوٹ اس کتاب میں ثابت کئے گئے ہیں مگر اس کا ایک اور جھوٹ یہ بھی ہے کہ اس سے جب یہ پوچھا گیا کہ وہ بے تحاشا سیگریٹ کیوں پیتا ہے تو کہنے لگا کہ اس سے SEX کم ہوتا ہے۔(اس وقت اس کی عمر کم و بیش 88 سال ہے ) اور وہ یہ بھی کہتا ہے کہ انسانی روح کا وزن 21 گرام ہوتا ہے۔(واذا حدث کذب )۔پس وہ تمام نشانیاں جو آنحضرت ﷺ نے ایک منافق کی بیان فرمائی تھیں وہ ان کا زبردست شاہکار ہے۔وہ پیر بن کر لوگوں کی روحانی اصلاح کی امانت لے کر آیا تھا مگر ان کی دولت اور زمینوں کو ہر ناجائز طریقہ سے غصب کرنے لگا۔ظاہر ہے کہ ناجائز قبضے ، بدیانتی ، جھوٹ، دغے، دھو کے اور فجور کے بغیر ممکن نہیں ہوتے۔وہ ان سے دین سکھانے کے وعدے کرتا رہا مگر کبھی کسی پر چاقو تان لیتا اور کبھی کسی کے مویشی مار دیتا حتی کہ اپنے محسن سیٹھ کو بھی دوائیاں کھلا کھلا کر پاگل کر دیا اور پھر اس کی جائیداد غصب کر لی۔مقامی ماہی گیروں کی زمین پر بھی ناجائز قبضہ کی وجہ سے جو اس کا جھگڑا چل رہا ہے وہ بھی جھوٹ ، دھوکہ بازی پر ہی مبنی ہے۔آخر میں ایک سندھی اخبار ” پاک“ کی اشاعت 3 دسمبر 1999ء بمطابق 24 شعبان 1420ھ کا ایک تراشہ قارئین کی دلچسپی کے لئے پیش ہے۔وو اس تراشے کا اردو تر جمہ : گجو کے شہر میں ایک غیر سندھی مرشد عوام کے لئے مصیبت بن گیا۔سالوں سے آباد مقامی باشندوں کو جھوٹے مقدموں میں پھنسا کر تنگ کرنے لگا۔خالی ہاتھ آنے والا پیر زمیندار بن گیا۔دینی تبلیغ کے بہانے ٹرسٹ قائم کر لیا۔عبدالحفظ پیر نے زمین حاصل کرنے کے لئے ہمیں گاؤں خالی کرنے کی