شیطان کے چیلے — Page 421
419 (5) نے کلمہ کی ضرورت نہیں راشد علی ” متوازی امت“ کے عنوان کے تحت لکھتا ہے۔’ جب کلمہ طیبہ پڑھا جائے گا تو اس میں مرزا صاحب خود بخود شامل ہو جاتے ہیں اس لئے بقول خلیفہ قادیان مرزا بشیر الدین محمود قادیانیوں کو کسی نئے کلمہ کی ضرورت نہیں رہی۔" (کلمته الفصل از مرز ابشیر احمدقادیانی ولد مرزا غلام قادیانی مندرجہ رساله ریویو آف ریلینجز “ عجیب منطق ہے کہ چونکہ قادیانیوں کو کسی نئے کلمہ کی ضرورت نہیں اس لئے وہ امت مسلمہ کے متوازی امت ہیں۔جب شیطان سر پر سوار ہو تو وہ اپنے چیلوں سے اسی قسم کی بے عقلی کے مظاہرے کرواتا ہے۔ان کی اس منطق کا یہ نتیجہ تو بہر حال نہیں نکلتا کہ نیا کلمہ نہ بنانے سے الگ متوازی امت قائم ہو جاتی ہے۔البتہ یہ نتیجہ ضرور نکلتا ہے کہ الگ کلمہ بنانے سے بھی الگ متوازی امت قائم نہیں ہوسکتی کیونکہ مثلاً دیو بندیوں نے اپنا الگ کلمہ بنالیا اور ” محمد رسول اللہ کی بجائے " اشرف علی رسول اللہ کو اپنا لیا تو بھی وہ الگ امت نہ ہوئے۔یعنی ان کی عجیب منطق ہے کہ جو الگ کلمہ بنالے وہ امت میں شمار ہو اور جو ” محمد رسول اللہ کو ہی حرز جان بنائے وہ ” متوازی امت!! ان کی تو ایسی مت ماری گئی ہے کہ انہیں ” مجنوں نظر آتی ہے، لیلی نظر آتا ہے ان سے کوئی سیدھی اور عقل کی بات کی کیا توقع رکھ سکتا ہے؟ را شد علی نے حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کی جس عبارت پر اپنے افتراء کی عمارت تعمیر کی ہے۔وہ یہ ہے: مسیح موعود خود محمد رسول اللہ ہیں جو اشاعت اسلام کے لئے دوبارہ دنیا میں تشریف لائے۔اس لئے ہم کو کسی نے کلمہ کی ضرورت نہیں۔ہاں اگر محمد رسول اللہ کی جگہ کوئی اور آتا تو ضرورت پیش آتی۔“ ( كلمة الفصل صفحہ 158 ) قارئین کرام ! دراصل یہ تحریر ایک ایسے معترض کو پیش نظر رکھ کر کھی گئی جوخود تسلیم کرتا تھا کہ احمد یوں