شیطان کے چیلے — Page 342
340 باوجود اس کے کہ اکثر عہد عتیق کی کتابوں میں اس کی ممانعت اور مذمت مذکور تھی۔لیکن مسیح نے شرائع انبیاء سابقہ کی کچھ پرواہ نہ کی اور بقول یوحنا شراب بنائی اور شرابی مجلس میں معہ والدہ کے شریک ہوئے۔حالانکہ خود ہی فرماتے ہیں: یہ نہ سمجھو کہ میں تو رات یا نبیوں کی کتابوں کو منسوخ کرنے آیا ہوں۔منسوخ کرنے نہیں بلکہ پورا کرنے آیا ہوں۔“ ان حالات میں مسیح کی شراب سازی خلاف شریعت فعل ہے۔“ (5/17) (iii) انجیل کے مطالعہ سے ہمیں یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ مسیح نے کذب کو روا رکھا ہے۔چنانچہ حضرت مسیح کا قول سردار کی لڑکی کی بابت اس طرح منقول ہے:۔وو 66 تم کیوں غل مچاتے اور روتے ہولڑ کی مر نہیں گئی بلکہ سوتی ہے۔“ ( متی 9/18، مرقس 5/29 ، لو قا8/54) اس کے بعد مسیح نے کہا اے لڑکی اٹھ۔وہ لڑکی اٹھ کر چلنے پھرنے لگی۔اس موقع پر عیسائی کہتے ہیں کہ وہ لڑ کی مرگئی تھی۔حضرت مسیح کے معجزہ سے زندہ ہوئی۔چنانچہ لوقا سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔لوقا کے الفاظ یہ ہیں : اس کی روح پھر آئی اور وہ اسی دم اٹھی “ اس بیان میں لوقا منفرد ہے)۔روح پھر آنا دلالت کرتا ہے کہ اس کی روح نکل چکی تھی دوبارہ زندہ ہوئی۔لہذا ضرور تسلیم کرنا پڑے گا کہ مسیح نے اس جگہ ناراست بات کہی اور خلاف واقعہ شہادت دی۔حالانکہ مسیح نے خلاف واقعہ بات کرنے سے خود ہی شاگردوں کو منع کیا ہے۔(مرقس 10/19) خون نہ کر ، زنانہ کر ، چوری نہ کر جھوٹی گواہی نہ دے۔امثال 19/5 میں ہے کہ جھوٹا گواہ بے سزا نہ چھوٹے گا اور جھوٹ بولنے والا رہائی نہ پائے گا۔“ اسی طرح یوحنا میں ہے۔مسیح نے لوگوں سے کہا کہ " تم عید میں جاؤ میں ابھی اس عید میں نہیں جاتا۔لیکن جب اس کے بھائی عید میں چلے گئے اس وقت وہ بھی گیا۔“ (یوحنا7/8 تا 11)