شیطان کے چیلے — Page 171
170 34۔جناب قاری محمد طیب صاحب دیوبندی لکھتے ہیں : انبیاء و دجاجلہ میں بھی ایک ایک فرد خاتم ہے جو اپنے دائرہ میں مصدر فیض ہے۔انبیاء علیہم السلام میں وہ فرد کامل اور خاتم مطلق جو کمالات نبوت کا منبع فیض ہے اور جس کے ذریعہ سارے ہی طبقہ انبیاء کو علم و کمالات تقسیم ہوئے ہیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔“ ( تعلیمات اسلام اور مسیحی اقوام۔مطبوعہ دلی پرنٹنگ پریس دہلی۔صفحہ 223 224 ) 35۔مولوی شبیر احد صاحب عثمانی دیوبندی ( شیخ الاسلام پاکستان ) نے لکھا ہے کہ: جبکہ صفت علم تمام ان صفات کی خاتم ہے جو مربی عالم ہیں تو جس کا اعجاز علمی ہوگا گویا اس پر تمام کمالات علمی کا خاتمہ کر دیا جائے گا اور اسی کو ہمارے نزدیک خاتم الانبیاء کہنا مناسب ہوگا۔“ (اعجاز القران - صفحہ 61) 36۔حضرت مولانا روم فرماتے ہیں: ” بہر این خاتم شد او که بجود او نے بود نے خواهند 66 بود کہ آنحضرت ﷺ اس لئے خاتم ہیں کہ آپ بے مثل و بے نظیر ہیں۔( مثنوی مولانا روم - دفتر ششم - صفحہ 18 19 مطبوع محمود المطابع کانپور ) ان استعمالات سے ظاہر ہے کہ اہلِ عرب اور دوسرے محققین علماء کے نزدیک جب بھی کسی مدوح کو خاتم الشعراء ا ختم الفقهاء یا خاتم المحدثین یا خاتم المفترین کہا جاتا ہے تو اس کے معنے بہترین شاعر ،سب سے بڑا فقیہ ،اور سب سے بلند مرتبہ محدث یا مفسر کے ہوتے ہیں۔کیونکہ یہی معنے صحیح اور سچے ہیں۔ان معانی کوتحریف کا نام دینا ایک بدترین جھوٹ ہے۔۔خاتم النبيين، حضرت محمد ﷺ کا ایک ایسا لقب ہے جو کمالات نبوت کے لحاظ سے آپ کے آخری مقام پر فائز ہونے کو ظاہر کرتا ہے کہ آپ بلحاظ رفعت وشان اور بلحاظ علو مرتبت آخری ہیں بعثت کے لحاظ سے آخری نہیں ہیں۔چنانچہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ا لا شك ان محمداً خير الورى ريق الكرام و نخبة الاعيان