شیطان کے چیلے — Page 162
161 3۔سورۃ البقرہ کی آیت نمبر ۳۵۔فَاذْكُرُونِي أَذْكُرْكُمْ وَاشْكُرُوا لِيْ وَلَا تَكْفُرُوْنِ میں ۱ واشكروالى کو بدل کر والشکرولی کردیا ہے۔(صفحہ 14) 4۔اس مذکورہ بالا آیت کو صفحہ 23 پر واشکرولی ولا تکفرون کردیا ہے۔وو 5۔سورۃ لیس کی آیت نمبر 16 - قَالُوْا مَا أَنْتُمْ إِلَّا بَشَرٌ مِثْلُنَا میں کلمہ قالوا میں سے ۱ ‘‘ نکال کر قالو ما انتم۔کر دیا ہے۔اس کے باوجود بہتر سو چھید والی چھلنی بولتی ہے اور جماعت احمدیہ کو اپنے جھوٹے اور بے بنیاد اعتراضات کا نشانہ بناتی ہے جبکہ عملاً تحریف قرآن خود اس کے اپنے بنیادی تعارف ، منشور، ترتیب ذکر، اور دعا میں موجود ہے۔علاوہ ازیں ان کے ماہوار رسالہ الحفیظ کے شمارہ مئی 99 ء کے صفحہ 40 پر پانچ آیات درج ہیں جن میں سے چار میں انہوں نے تحریف کی ہے۔چنانچہ وہ آیت کریمہ يسَ وَالْقُرْآنِ الْحَكِيمِ O کی بجاۓ يس والقرن اور ” وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى “ کی بجائے ” وما يتنطق عن الهوى “ اور وَمَا اَرْسَلْنَكَ إِلا رَحْمَةً لِلْعَلَمِيْنَ کی بجائے وما ارسلنک الا رحمتہ اللعالمین اور مُحَمَّدٌ رَسُوْلُ اللَّهِ وَالَّذِيْنَ مَعَهُ کی بجائے محمد الرسول الله والذين معه ، تحریر کر کے انہوں نے واضح طور پر آیات قرآنیہ میں تحریف کا ارتکاب کیا ہے۔نیز کتاب ” ہم اللہ کو کیوں مانیں، میں صفحہ 103 پر وَجَعَلَ الشَّمْسَ سِرَاجًا میں تحریف کر کے وجعل شمس سراجا لکھا ہے۔اور اسی کتاب میں صفحہ 105 اور ص 93 اور ص 83 پر کلمہ طیبہ لا اله الا الله محمد رسول اللہ میں تبدیلی کر کے لا اله الا الله محمد الرسول اللہ کر دیا ہے۔اسی کتاب میں صفحہ 35 پر آیت کریمہ إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً “ میں تحریف کر کے اسے ” رب انی جاعل في الارض خلیفة “ بنادیا ہے۔یعنی رب کا لفظ اپنی طرف سے داخل کر دیا ہے۔الغرض انہوں نے اپنے لٹریچر میں آیات قرآنیہ کے دشمن بن کر ان سے اس کثرت کے ساتھ کھلواڑ کیا ہے کہ اس کی مثال کہیں اور نہیں ملتی۔انہوں نے تو کلمہ طیبہ میں بھی حروف کا رد و بدل کر چھوڑا ہے۔یہ اسلام، کلمہ طیبہ اور قرآن کریم سے دشمنی نہیں تو اور کیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ جب قرآن کریم کی تخفیف اور