شیطان کے چیلے

by Other Authors

Page 125 of 670

شیطان کے چیلے — Page 125

124 اس مذکورہ بالا عبارت میں حضرت بانی جماعت احمد یہ سیح موعود و مہدی معہود علیہ السلام نے اسلام کا دفاع کرتے ہوئے قرآنِ کریم کے حسن و اعجاز کو چیلنج کے طور پر ان مولویوں کے سامنے رکھا تھا جو مسلمانوں کی ذریت ہوکر عیسائیت کے آغوش میں جا گرے تھے۔اور قرآن کریم کی تکذیب وتخفیف اور سید المرسلین صلى الله خاتم النبین حضرت محمد مصطفی ﷺ پر سب و شتم کے لئے صف آراء ہو کر کتابیں لکھنے لگے تھے۔آپ نے واضح طور پر صرف ان بد بخت مولویوں کے نام لکھ لکھ کر اور انہیں مخصوص کرتے ہوئے، انہیں کو چیلنج دیئے ہیں کہ وہ قرآن کریم کے حسن و جمال کی نظیر تو لا کر دکھائیں ، اس کے اعجاز کا مقابلہ تو کریں۔بالآخر اس چیلنج کو قبول نہ کرتے ہوئے ، اور اس مقابلہ سے پیٹھ دکھاتے ہوئے ، اپنی بدزبانیوں پر قائم رہنے والوں پر آپ نے ہزار بار لعنت کی ہے۔کتاب ” نور الحق کی تحریر ثابت کرتی ہے کہ راشد علی نے یا تو حضرت بانی جماعت احمد یہ علیہ السلام سے بغض کی بناء پر آپ کے خلاف محض جیھ بڑھائی ہے یا درحقیقت وہ اس فہرست میں شامل ہے جو کتاب ” نور الحق کے صفحہ 157 پر حاشیہ میں درج ہے۔گو بعد میں پیدا ہونے کی وجہ سے اس کا نام اس فہرست میں نہیں آسکا۔ان ملعون منتصر مولویوں کے لئے اس کی ایسی غیرت کا اظہار اور ان کا دفاع تو یہی ثابت کرتا ہے کہ وہ انہیں کا ہم مشرب و ہم پیالہ ہے، جس طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اپنے آقا صلى الله و مولی آنحضرت ﷺ اور کلام اللہ کے لئے غیرت اور ان کا دفاع یہ ثابت کرتا ہے کہ آپ انہیں کے فیض کے چشمہ سے سیراب ہیں۔راشد علی کی اس تعلی سے یہ تو قطعی طور پر ثابت ہوتا ہے کہ اسے یہ ہرگز منظور نہیں کہ کوئی سید الاتقیاء والاصفیاء حضرت محمد مصطفی ﷺ اور آپ کی ازواج مطہرات کے ناموس کی حفاظت کرتے ہوئے اور کلام اللہ پر طعن اور اس پر حملوں کا دفاع کرتے ہوئے ایسا کرنے والے دشمنان اسلام پر لعنت بھیجے۔البتہ اسے یہ بہت ہی مرغوب اور پسند ہے کہ وہ ان دریدہ دہن اور بد زبان گستاخ متنصر مولویوں کی نہ صرف یہ کہ صف میں کھڑا ہو بلکہ ان کا دفاع اور ان کی وکالت بھی کرے پس یہ ایسی اعلیٰ درجہ کی لعنت ہے جو راشد علی پر ہی سجتی ہے۔ایک ادنیٰ سے ادنی مسلمان بھی اس سچائی کو اپنا ایمان سمجھتا ہے کہ تکذیب قرآن اور سب وشتم