شادی بیاہ کے گیت

by Other Authors

Page 28 of 57

شادی بیاہ کے گیت — Page 28

28 جو سکھیاں سجائیں گی مہندی سے ہاتھ تو مہکے یہ دن اور چمکے یہ رات جو رسموں رواجوں کو چھوڑیں گے ہم تو نا تا مسیحا سے جوڑیں گے ہم منائیں اگر سادگی ނ خوشی تو اسراف سے منہ کو موڑیں گے ہم جو سکھیاں سجائیں گی مہندی سے ہاتھ تو مہکے یہ دن اور چمکے یہ رات دولہا بھی خدام کا تاج ہو دلہن بھی لجنہ کی تزئین ہو وفا کا اگر ان کے دل میں ہو نور تو رنگ حنا اور رنگین ہو جو سکھیاں سجائیں گی مہندی سے ہاتھ تو مہکے یہ دن اور چمکے یہ رات دلوں میں لگائیں خلافت کی کو تو سر پر سکوں کی ردائیں رہیں ہمیشہ ہی ان دونوں کے ہمقدم امام زماں کی دعائیں رہیں جو سکھیاں سجائیں گی مہندی سے ہاتھ تو مہکے یہ دن اور چمکے یہ رات ( مکرم مبارک احمد عابد صاحب)