شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 35
یہ الزام جو میرے ذمہ لگایا جاتا ہے کہ گویا میں ایسی نبوت کا دعوای کرتا ہوں جس سے مجھے اسلام سے کچھ تعلق باقی نہیں رہتا اور جس کے یہ معنے ہیں کہ میں مستقل طور پر اپنے تئیں ایسا نبی سمجھتا ہوں کہ قرآن شریف کی پیروی کی کچھ حاجت نہیں رکھتا اور اپنا علیحدہ کلمہ اور علیحدہ قبلہ بناتا ہوں اور شریعیت اسلام کو منسوخ کی طرح قرار دیتا ہوں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء اور متابعت سے باہر جاتا ہوں۔یہ الزام صحیح نہیں ہے۔بلکہ ایسا دعوی نبوت کا میرے نزدیک کفر ہے نہ آج سے بلکہ اپنی ہر ایک کتاب میں ہمیشہ میں یہی لکھتا آیا ہوں کہ اس قسم کی نبوت کا مجھے کوئی دعوی نہیں یہ سرا سر میرے پر تہمت ہے۔اور میں بنا پر میں اپنے تئیں بنی کہلاتا ہوں وہ صرف اس قدر ہے کہ میں خدا تعالیٰ کی ہمکلامی سے مشرف ہوں اور وہ میرے ساتھ بکثرت بولتا اور کلام کرتا ہے۔اور میری باتوں کا جواب دیتا ہے۔اور بہت سی غیب کی باتیں میرے پر ظاہر کرتا اور آئندہ زمانوں کے وہ راز میرے پر کھولتا ہے کہ جب تک انسان کو اس کے ساتھ خصوصیت کا قرب نہ ہو دوسرے پر وہ اسرار نہیں کھولتا۔اور انہی امور کی کثرت کی وجہ سے اُس نے میرا نام نبی رکھا ہے۔سوئیں خدا کے حکم کے موافق نبی ہوں۔اگر میں اس سے انکار کروں تو میرا گناہ ہو گا۔اور جس حالت میں خدا میرا نام نبی رکھتا ہے تو میں کیونکہ اس سے انکار کر سکتا ہوں۔میں اس پر قائم ہوں اس وقت تک ہم اس دنیا سے گزر جاؤں "