شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 164
۱۹۴ کے دن احتجاج کریں گے ایک بہرہ جو کچھ سنتا نہیں تھا۔اور ایک بہت بوڑھا اور ایک احمق آدمی۔اور ایک وہ جو فترہ کے زمانہ میں تھا۔جبکہ کوئی نبی موجود نہ تھا، بہرہ کہے گا۔اے رب ! اسلام آیا اور میں کچھ سنت نہ تھا۔اور احمق کہے گا۔اے رب ! السلام آیا تو بچے تجھے مینگنیاں مارتے تھے۔اور بوڑھا کہے گا۔اے رب ! اسلام آیا تو میں عقل نہیں رکھتا تھا۔اور وہ جو فترہ کے زمانہ میں تھا کہے گا۔اے رہتا ! میرے پاس کوئی رسول نہیں آیا۔اس پر خدا تعالیٰ اُن سب سے عہد لے گا کہ وہ اس کی ضرور اطاعت کرینگے۔پس اُن کی طرف ایک رسول مبعوث کرے گا کہ آگ میں داخل ہو جاؤ، پس مجھے اُس ذات کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اگر وہ اس میں داخل ہو جاتے تو وہ آگ اُن کے لئے ٹھنڈک اور سلامتی کا باعث ہوتی۔بروایت ابوہریہ نجو اس میں داخل ہوگا اس کیلئے ٹھنڈک اور سلامتی ہوگی اور جو اس میں داخل نہ ہو گا اس کو اس کی طرف گھسیٹا جا تھا۔اس حدیث میں خاتم النبی صلی الہ علیہ سلم کے ظہور کے بعد قیامت کے دن ایک رسول کے مبعوث کیا جانے کی خبر دی گئی ہے۔اگر خاتم النبیین کے معنے محض آخری نبی درست ہوتے تو پھر قیامت کے دن بھی آپ کے ظہور کے بعد کوئی نبی مبعوث نہ ہو سکتا۔پس خاتم النبیین کے معنے محض آخری نبی اس حدیث کی روشنی میں درست نہیں کیونکہ آخری نبی کے بعد کسی فرد کا انبیاء کے گروہ مں اضافہ نہیں ہوسکتا۔پس خاتم النبیین کے معنے نبوت میں موثر وجود کے ہیں۔نہ کہ محض آخری نبی۔