سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 337
ان دعوی کی خواہشارے کیے آزاد کرکے میری زندگی کو پریشانی کے بٹھا لیا۔اسکے بعد حکوقت کا وہ آیا بالی ابتداد ایک تاریک حالات میں ہوں کہ بہ ظاہر وہ خلافت تو کبھی دور سے خود گئی تھی لیں اللہ تعالے نے بھی کی موت کو قبول کر نیکی بھی توفیق دی مگر اچھے بعد اللہ تعالے کو معلوم نے تا ہے جو کر دیا کہ بار اقتداز شدہ خدا ہے جس کے مجھے اسکے لیے قوت قبول کر لیتا ہے بشرطیکہ وہ موٹے کیا ہو بشر طیکہ انسان اپنے نفس کو رکے لیے بالنگا مار رہے بشرطیکہ وہ الوہی اللہ سے با وعود دیا میں بنے تو آزاد ہو جانے کند داستان اور مساعدی اور سیره معادی ایسکانی کافتاده است قدراتقائے اتھے را به پروانه گا دوست را قرار دارد اثر ہو اور کیا اور فرمانی مقدار وہ سکندر ہی پیاری ہوا کر کوئی اثر نہ ہو یہ راستہ ہے جو ہمارے خاندان ن نے اللہ تعالے نے تجویز کیا ہے بغیر اپنے کا دینے کا اسلام آج کا یاد نہیں ہوگا اللہ سوال کھیل بنی کہ یونہی لے ہوجائے وہ