سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 281
259 محنت کی عادت حضور جو ضروری کام شروع فرماتے اس پر مسلسل غور وفکر جاری رکھتے ، ساتھ ساتھ ہدایات جاری فرماتے آپ کی یہ ضروری تاکید ہوتی تھی کہ کام کی رپورٹ ساتھ کے ساتھ ضرور ملتی جائے۔اس مقصد کے لئے دن رات کا بھی کوئی فرق نہ ہوتا تھا۔تحریک جدید کے آغاز میں حضور کی خدمت میں روزانہ کام کی رپورٹ پیش کی جاتی تھی۔ایک دن متعلقہ کا رکن نے اپنی رپورٹ تو تیار کر لی مگر یہ دیکھتے ہوئے کہ حضور رات گئے تک مصروف رہے ہیں بے وقت رپورٹ پیش کرنے سے اجتناب کرتے ہوئے اپنے گھر چلے گئے۔حضور نے اپنے معمول کے مطابق بستر پر جانے سے قبل اپنے دن بھر کے کاموں کا جائزہ لیا تو آپ کو یاد آیا کہ آج آپ کی خدمت میں تحریک جدید کے کام کی رپورٹ پیش نہیں ہوئی۔اس پر رات گئے کسی کارکن کو متعلقہ کارکن کے ہاں بھجوا کر اسے بلوایا گیا اور رپورٹ پیش کرنے کو کہا گیا۔رپورٹ ملاحظہ فرمانے اور اس پر اپنی ہدایات دینے کے بعد حضور آرام فرمانے کے لئے تشریف لے گئے۔یہ ایک الگ بات ہے کہ رات کا اکثر حصہ گزر جانے کی وجہ سے حضور نے بستر پر آرام فرمایا ہوگا یا مِنَ اللَّيْلِ فَتَهَجَّدُبِہ کے مطابق آخر شب کی عبادت کے لئے اللہ کے حضور حاضر ہو کر قلب وروح کا سکون حاصل کیا ہوگا۔۱۹۴۶ء کے عام انتخابات بہت اہمیت کے حامل تھے ان انتخابات کے نتائج پر پاکستان کے قیام اور مسلمانوں کے بہتر مستقبل کا انحصار تھا۔اس مقصد کے لئے حضور نے دن رات رضا کاروں کے کام کی نگرانی فرمائی ، موقع کے مطابق ساتھ ساتھ ہدایات جاری فرمائیں ، کام کی رپورٹیں مسلسل دن ہو یا رات آپ کی خدمت میں پیش ہوتی تھیں اور آپ کے ساتھ کام کرنے والوں کیلئے یہ امر ہمیشہ ہی باعث حیرت رہا کہ دن رات میں حضور آرام کس وقت فرماتے ہیں؟ ۱۹۳۴ء میں جب قادیان میں بعض مخالف مولویوں اور انگریز حکومت کے کارندوں کی ملی بھگت