سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 7
7 افادیت و تاثیر کے لحاظ سے بہت پسند کی جاتی تھیں۔مگر منصب امامت پر فائز ہونے کے بعد تو آپ کی یہ خوبی اتنی نمایاں ہوگئی کہ بلا خوف تردید کہا جا سکتا ہے کہ سنجیدہ علمی خطاب کرنے والوں میں آپ سب سے آگے تھے۔مختصر نوٹوں کی مدد سے بڑے وقار و متانت کے ساتھ بغیر کسی مصنوعی گھن گرج یا ہاتھ لہرانے پھیلانے کے ، گھنٹوں ایسے بولتے چلے جاتے کہ جیسے کوئی کتاب پڑھ رہے ہوں۔موضوع پر پوری گرفت ہوتی، ہر فقرہ موزوں اور درست ہوتا، کوئی بات موضوع سے ہٹی ہوئی نہ ہوتی۔کبھی کبھی وقفہ وقفہ سے کوئی پاکیزہ لطیفہ یا دلچسپ واقعہ بھی ضرور بیان کرتے مگر وہ بھی موضوع کو زیادہ واضح کرنے اور کھولنے کیلئے ہوتا اور یوں لگتا کہ یہ اسی موقع کے لئے ہی بنایا گیا تھا۔اس سے بھی زیادہ دلچسپی کا باعث وہ تلاوت ہوتی جو آپ تقریر کے شروع میں اور پھر تقریر کے دوران مضمون کی مناسبت سے نہایت خوش الحانی سے کرتے اور نئے نئے تفسیری نکات و معارف بیان فرماتے۔آپ کی مخالفت بہت زیادہ تھی جو حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کا موعود بیٹا ہونے کی وجہ سے آپ کی پیدائش سے بھی پہلے شروع ہو گئی تھی۔جماعت کے اندر بھی بعض کمزور ایمان والوں نے فتنے شروع کئے مگر اس ساری مخالفت کے باوجود یہ عجیب بات ہے کہ آپ نے کبھی کسی سے نفرت نہ کی، کبھی کسی کو اپنا دشمن نہ سمجھا ، جب بھی موقع ملا مخالفوں سے بھی حسن سلوک فرمایا ، قومی مفاد کے کاموں میں مخالفوں سے تعاون بھی کیا اور ان سے تعاون حاصل کرنے کی کوشش بھی فرمائی۔اگر کسی مخالف کی کسی مشکل یا تکلیف کا علم ہوا تو اس کی ہر ممکن مدد فرمائی۔ایسی مثالیں بھی ریکارڈ میں ہیں کہ مدت العمر مخالفت میں زندگی گزارنے والے ایسے مخالف جو اپنی مخالفت میں تمام حدود کو تجاوز کر جاتے تھے جب آخری عمر میں بیمار اور محتاج ہوئے تو حضور کی ہدایت پر حضور کے معالج خاص ان کا علاج کرتے رہے اور حضور کی طرف سے ان کی ادویات بھی مہیا کی جاتیں۔آپ مغربی تمدن اور مغربی طرزِ فکر کو سخت نا پسند فرماتے تھے اس کے مقابلہ میں آپ ہمیشہ اسلامی تمدن کو قائم کرنے کی کوشش فرماتے اس کی ایک بہت ہی قابل قدر اور نمایاں مثال آپ کا تعد دازدواج تھا۔مغربی پراپیگنڈا میں اسلام کی اس تعلیم پر بہت اعتراض کئے جاتے ہیں آپ نے قرآنی تعلیم کے مطابق مختلف ضروریات سے ایک سے زیادہ شادیاں کیں اور اسلامی دنیا میں آپ اس لحاظ سے منفرد حیثیت رکھتے ہیں کہ آپ اس کے متعلق مدافعانہ پہلو اختیار کرنے کی بجائے اسے اسلام کی بہترین قابل عمل تعلیم کے طور پر پیش فرماتے رہے اور یہ بات زبانی یا اصولی ہی نہیں تھی بلکہ آپ کا طرز عمل بھی یہی ثابت کرتا تھا کہ یہ کوئی چھپانے کی بات یا مجبوری کی وجہ سے اختیار کرنے والا امر نہیں