سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 397 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 397

۳۹۷ جو ان لوگوں کے سامنے تھے ان سے بہت بڑے نشان آپ کے سامنے ہیں۔۱۸۹۵ء کے بعد تیرہ سال برابر حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر نشانات ظاہر ہوتے رہے اور آپ کی وفات سے لے کر اس وقت تک بھی آپ کے نشانات نئی نئی صورتوں میں دنیا پر ظاہر ہو رہے ہیں۔پھر خدا نے میرے ذریعہ سے بہت سے غیب ظاہر کئے ہیں جو کہ مُردوں کو زندہ کرنے والے بہروں کو شنوائی بخشنے والے اور اندھوں کو بینائی بخشنے والے ہیں۔پس آپ کے ایمانوں کو زیادہ کرنے والے جو سامان موجود ہیں وہ ان لوگوں سے بہت زیادہ ہیں جو ۱۸۹۵ء کے لوگوں کو میسر تھے ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ آپ لوگ اپنے اوقات کو ان نشانوں کے پڑھنے اور سوچنے اور ان پر غور کرنے میں صرف کریں اور ان سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں۔اگر آپ ایسا کریں تو دنیا کی محبت آپ کے دلوں سے یقیناً سرد ہو جائے گی اور دین کی محبت کی آگ آپ کے دلوں میں سلگنے لگ جائے گی اور آپ صرف انہی نشانوں پر جو ظاہر ہو چکے ہیں زندہ نہیں رہیں گے بلکہ خدا تعالٰی آپ کے اندر سے بولنے لگے گا اور آپ خود خد اتعالیٰ کا نشان بن جائیں گے۔کیا یہ سچ نہیں کہ ہمارا اخد ا سب دنیا کو پیدا کرنے والا خدا ہے کیا یہ سچ نہیں کہ دنیا کا ذرہ ذرہ اس کا مملوک اور غلام ہے، کیا یہ سچ نہیں کہ دنیا کی تمام بادشاہتیں اللہ تعالیٰ کے مقابلہ میں اتنی بھی حیثیت نہیں رکھتیں جتنا کہ ایک مچھر ایک ہاتھی کے مقابلہ میں حیثیت رکھتا ہے پھر آپ کے حوصلوں کو پست کرنے والی کیا چیز ہے؟ صرف ارادے کی کمی ہے ورنہ نشانوں کی کوئی کمی آپ کے پاس نہیں۔آج آپ لوگ یہ عہد کرلیں کہ ہم احمدیت کو نئے سرے سے پھر ہندوستان میں قائم کریں گے۔اس کے گوشے گوشے میں احمدیت کا پیغام پہنچا دیں گے۔اس کے خاندان خاندان سے احمدیت کے سپاہی نکال کر لائیں گے۔اس کی قوم قوم کو احمدیت کا غلام بنا کر چھوڑیں گے اور یہ کام مشکل نہیں ہے۔حق ہمیشہ غالب ہوتا ہے اور ناراستی ہمیشہ مغلوب ہوتی ہے۔پس آپ لوگوں کو چاہئے کہ (۱) ایک تو اس بات کا عزم کرلیں کہ ایک زندہ احمدی کی زندگی آپ بسر کریں گے نہ کہ مردہ احمدی کی۔(۲) آپ اپنے علاقہ اور اس کے ارد گرد جماعت کے پیغام کو اس زور -