سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 171
121 کیا کر سکتے ہیں۔ہمارے لئے یہ سوچنے کا موقع آگیا ہے کہ کیا ہم کو الگ الگ اور باری باری مرنا چاہئے یا اکٹھے ہو کر فتح کے لئے کافی جد و جہد کرنی چاہئے۔میں سمجھتا ہوں وہ وقت آگیا ہے جب مسلمانوں کو یہ فیصلہ کر لینا چاہئے کہ یا تو وہ ایک آخری جدوجہد میں فنا ہو جائیں گے یا کلی طور پر اسلام کے خلاف ریشہ دوانیوں کا خاتمہ کر دیں گے۔مصر شام اور عراق کا ہوائی بیڑا سو ہوائی جہازوں سے زیادہ نہیں۔لیکن یہودی اس سے دس گنا بیژه نهایت آسانی سے جمع کر سکتے ہیں اور شاید روس تو ان کو اپنا بیڑہ نذر کے طور پر پیش بھی کر دے۔" آخر میں حضور نے تمام مسلمانوں کو آئندہ کا لائحہ عمل بتاتے ہوئے فرمایا:۔" آج ریزولیوشنوں سے کام نہیں ہو سکتا، آج قربانیوں سے کام ہو گا۔اگر پاکستان کے مسلمان واقع میں کچھ کرنا چاہتے ہیں تو اپنی حکومت کو توجہ دلائیں کہ ہماری جائیدادوں کا کم سے کم ایک فیصدی حصہ اس وقت لے لے۔ایک فیصدی حصہ سے بھی پاکستان کم سے کم ایک ارب روپیہ اس غرض کیلئے جمع کر سکتا ہے اور ایک ارب روپیہ سے اسلام کی موجودہ مشکلات کا بہت کچھ حل ہو سکتا ہے۔پاکستان کی قربانی کو دیکھ کر باقی اسلامی ممالک بھی قربانی کریں گے اور یقیناً پانچ چھ ارب روپیہ جمع ہو سکے گا جس سے فلسطین کیلئے باوجود یورپین ممالک کی مخالفت کے آلات جمع کئے جاسکتے ہیں۔ایک روپیہ کی جگہ پر دو دو روپیہ کی جگہ پر تین ، تین روپیہ کی جگہ پر چار اور چار روپیہ کی جگہ پر پانچ خرچ کرنے سے کہیں نہ کہیں سے چیزیں مل جائیں گی۔یوروپین لوگوں کی دیانتداری کی قیمت ضرور ہے خواہ وہ قیمت گراں ہی کیوں نہ ہو۔انہیں خریدا ضرور جا سکتا ہے خواہ بڑھیا بولی پر مگر بولی دینے کے لئے جیب بھی بھری ہوئی ہونی چاہئے۔پس میں مسلمانوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ اس نازک وقت کو سمجھیں اور یاد رکھیں کہ آج رسول کریم ملی ایر کا یہ فرمان کہ الْكُفَرُ مِلَّةَ وَاحِدَةُ لفظ بلفظ پورا ہو رہا ہے۔یہودی اور عیسائی اور دہریہ مل کر اسلام کی شوکت کو مٹانے کے لئے کھڑے ہو گئے ہیں۔پہلے فرداً فرد ایو رو پین اقوام مسلمانوں پر حملہ کرتی تھیں مگر اب مجموعی صورت میں ساری طاقتیں مل کر حملہ آور ہوئی ہیں۔آؤ ہم سب مل کر ان کا مقابلہ کریں کیونکہ اس معاملے میں ہم میں کوئی اختلاف نہیں۔پس ہمیں چاہئے اپنے عمل سے اپنی قربانیوں سے اپنے اتحاد سے اپنی