سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 5
ضبط عرض حال سوانح فضل عمر کی دو جلدیں شائع ہو چکی ہیں جو ہمارے پیارے امام حضرت مرزا طاہر احمد ایدہ اللہ تعالیٰ کی طرز نگارش و ترتیب و تحقیق کا حسین مرقع ہیں۔حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کے منصب خلافت پر سرفراز ہوئے اور اس کے نتیجہ میں غیر معمولی مصروفیات و بے اندازہ ذمہ داریوں کی وجہ سے جماعت۔شدید اشتیاق و انتظار کے باوجود حضور کی مصنفہ سوانح سے محروم رہ گئی۔حضور ایدہ اللہ تعالیٰ نے از راہ شفقت و خادم نوازی خاکسار کو سوانح فضل عمر کے بحر بے کنار کو م میں لانے کا ارشاد فرمایا۔اپنی کوتاہ علمی - کوتاہ نظری اور تصنیف کے کام میں ناپختگی ونا تجربہ کاری کے با وجود عمیل ارشاد کو سعادت گردانتے ہوئے جو بری بھلی کوشش ہو کی ہے آپ کی خدمت میں پیش ہے۔سوانح نگاری میں بالعموم مبالغہ آمیزی اور عبادت آفرینی کار جان ہوتا ہے مگر زیر نظر کام میں اس کا اندیشہ تو نہیں تھا کیونکہ حضرت مصلح موعود کی تعریف ان کی پیدائش سے بھی پہلے خداوند عظیم بان فرما چکا ہے اور حضرت فضل عمر کی بھر پور کامیاب زندگی کا ہر لمحہ اسبات کا شاہد ہے کہ آپ ہی اس تعریف کے مستحق و مصداق تھے۔اس لحاظ سے بیان یا ترتیب میں مقیم اور کمی کا اندیشہ ضرور ہو سکتا تھا جسے کم سے کم کرنے کیلئے بالعموم حضرت مصلح موعود کے ارشادات کی روشنی میں ہی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے اس میں آپ بیتی کی حلاوت و چاشنی پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔یہ کام کسی طرح بھی مکمل اور مثالی نہیں ہے۔اس پر مزید تحقیق و محنت کی ضرورت ہے تاہم یہ سطور حضرت مصلح موعود کے زمانہ کی خوشگوار یادوں کو تازہ کرنے اور نئے آنے والوں کو اس عظیم ہستی سے کسی قدر متعارف کرواتے ہوئے ان میں پرانی یادوں اور قدروں کو زندہ رکھنے کی سعی وکوشش اور عزم وارادہ پیدا کر سکیں تو این است کام دان اگر ایک میمیرم خادم عبد الباسط شاہد