سوانح فضل عمر (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 145 of 367

سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 145

: ۱۴۵ سے نکاح ہو جاوے تو موجب برکاتے ہوئے محترم ڈاکٹر صاحب کے رشتہ داروں نے جو احمدی نہیں تھے اس رشتہ کی مخالفت کی لیکن ڈاکٹر صاحب نے بلا تامل اس مبارک تعلق پر رضامندی کا اظہار کر دیا۔ان دنوں ڈاکٹر صاحب رڑکی ضلع سہارن پور (یو پی) میں متعین تھے۔وہیں نکاح کی تقریب کا منعقد ہونا طے پایا۔چنانچہ صاحبزادہ مرزا محمود احمد صاحب، حضرت مولوی نور الدین صاحب رضو حضرت میر ناصر نواب صاحب ، حضرت میر محمد اسماعیل صاحب اور چند اور بزرگوں اور دوستوں کے ہمراہ ۲ اکتوبر کی شام کو رڑکی پہنچے۔اسٹیشن پر ڈاکٹر صاحب نے اپنے بہت سے دوستوں کے ساتھ استقبال کیا۔حضرت مولوی نور الدین صاحب نے ایک ہزار روپیر حیق مهر پر نکاح پڑھا اور ۵ اکتوبر کو بعد نماز عصر یہ قافلہ رڑکی سے بخیریت واپس قادیان پہنچا۔مغرب کی نماز کے بعد جب کہ حضرت مسیح موعود علیه السلام حسب معمول شده نشین پر تشریف فرما ہوئے تو حضرت مولوی نور الدین صاحب نے تقریب نکاح پر مبارک دی اور ڈاکٹر صاحب کے اخلاص کی تعریف کی حضور نے اظہار خوشنودی کرتے ہوئے فرمایا اللہ تعالیٰ نے ان کو بہت اخلاص دیا ہے، ان میں اہمیت اور زیرہ کی بہت ہے اورمیں نے دیکھا ہے اُن میں نوکہ فراست بھی ہے تے رخصتانہ کی تقریب دوسرے سال تشاء میں اکتوبر کے دوسرے ہفتے آگرہ میں منعقد ہوتی۔اِن دنوں محترم ڈاکٹر صاحب آگرہ میڈیکل کالج میں پروفیسر تھے۔اکتوبر تشنہ کو برات واپس تا دیان پہنچی اگلے دن حضور کے گھر سے اس خوشی میں بتاشے تقسیم کئے گئے۔ہمیتی سے سیٹھ محمد اسماعیل آدم صاحب نے تقریب شادی کے موقع پر ایک ٹوپی اور اوڑھنی کا تحفہ بھیجا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تحفہ بھیجنے پر محترم سیٹھ صاحب کو شکریہ کا خط لکھا جس میں آپ نے تحریر فرمایا :- آپ کا محبت و اخلاص کا تحفہ جو آپ نے برخوردار مود اور بشیر کی کی شادی کی تقریب پر بھیجا ہے یعنی ایک ٹوپی اور ایک اوڑھنی پہنچ گیا ہے۔میں آپ کے اس محبانہ تحفہ کا شکر کرتا ہوں اور آپ کے حق میں دُعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ آپ کو دین اور دنیا میں اس کا اجر بخشے۔آمین ہائے تاریخ احمدیت جلدم من الحکم نیا اکتوبر تنتشله الفضل در جوانی کمکتوبات احمد جلد ۵ ص ۲۱