منتخب احادیث — Page 39
اللهِ مَحَارِمُهُ ، اَلا وَإِنَّ فِي الْجَسَدِ مُضْغَةً إِذَا صَلَحَتْ صَلَحَ الْجَسَدُ كُلُه ، وَإِذَا فَسَدَتْ فَسَدَ الْجَسَدُ كُلُّهُ : أَلَا وَهِيَ الْقَلْبُ (مسلم کتاب البیوع باب اخذ الحلال) حضرت نعمان بن بشیر بیان کرتے ہیں کہ میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا۔حرام اور حلال واضح ہے ان کے درمیان کچھ مشتبہ امور ہیں جنکو اکثر لوگ نہیں جانتے۔پس جو لوگ مشتبہات سے بچتے رہے انہوں نے اپنے دین کو اور اپنی آبرو کو محفوظ کر لیا اور جو شخص شبہات میں پڑ گیا بہت ممکن ہے کہ وہ حرام میں جا پھنسے یا کسی جرم کا ارتکاب کر بیٹھے۔ایسے شخص کی مثال بالکل اس چرواہے کی سی ہے جو ممنوعہ علاقہ کے قریب قریب اپنے جانور چراتا ہے بالکل ممکن ہے کہ اس کے جانور اس علاقہ میں گھس جائیں۔دیکھو ہر بادشاہ کا ایک محفوظ علاقہ ہوتا ہے جس میں کسی کو جانے کی اجازت نہیں ہوتی۔یا درکھو اللہ تعالیٰ کا محفوظ علاقہ اس کے محارم ہیں اور سنو انسان کے جسم میں ایک گوشت کا ٹکڑا ہے جب تک وہ تندرست اور ٹھیک رہے تو سارا جسم تندرست اور ٹھیک رہتا ہے اور جب وہ خراب اور بیمار ہو جائے تو سارا جسم بیمار اور لاچار ہوجاتا ہے اور اچھی طرح یا درکھو کہ یہ گوشت کا ٹکڑا انسان کا دل ہے۔39