منتخب احادیث — Page 32
وَسَلَّمَ : نَج: ذلِكَ مَالٌ رَائِحُ ذَلِكَ مَالُ رَائِحَ وَقَدْ سَمِعْتُ مَا قُلْتَ وَإِنِّي أَرى أَنْ تَجْعَلَهَا فِي الْأَقْرَبِينَ - فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ اَفْعَلُ يَا رَسُولَ اللهِ : فَقَسَمَهَا أَبُو طَلْحَةَ فِي أَقَارِبِهِ وَبَنِى عَلَيْهِ۔(بخاری کتاب التفسير باب لن تنالوا البر حتى تنفقوا مما تحبّون) : حضرت انس بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابوطلحہ انصاری مدینہ کے انصار میں بڑے مالدار تھے ان کے کھجوروں کے باغات تھے جن میں سے سب سے زیادہ عمدہ باغ بیرحاء نامی تھا جو حضرت طلحہ کو بہت پسند تھا اور مسجد نبوی کے سامنے بالکل قریب تھا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بالعموم اس باغ میں جاتے اور اس کا میٹھا اور عمدہ پانی پیتے جب یہ آیت نازل ہوئی کہ جب تک تم اپنے پسندیدہ مال میں سے خرچ نہیں کرتے نیکی کو نہیں پاسکتے تو حضرت طلحہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی یا رسول اللہ ! آپ پر اس مضمون کی آیت نازل ہوئی ہے اور میری سب سے پیاری جائیداد بیرحاء باغ ہے میں اسے اللہ کی راہ میں صدقہ کرتا ہوں اور اُمید رکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ میری اس نیکی کو قبول کرے گا اور میرے آخرت کے ذخیرہ میں شامل کر دیگا۔حضور اپنی مرضی کے مطابق اس کو اپنے مصرف میں لائیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا واہ ! واہ ! بہت ہی اعلیٰ اور عمدہ مال ہے۔بڑا نفع مند ہے اور جوتُو نے کہا ہے وہ بھی میں نے سن لیا ہے میری رائے یہ ہے کہ تم یہ باغ اپنے رشتہ داروں کو دید و چنانچہ حضرت طلحہ نے وہ باغ اپنے قریبی رشتہ داروں اور چیرے بھائیوں میں تقسیم کر دیا۔۳۹- عَنْ عَدِي بْنِ حَاتِمٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : اِتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ (بخاری کتاب الزکوة باب اتقوا النار ولو بشق تمرة) 32