منتخب احادیث — Page 19
دعوت دیتا تو آپ اسے حقیر نہ سمجھتے اور قبول کرتے۔آپ نہایت ہمدرد نرم مزاج اور حلیم الطبع تھے۔آپ کا رہن سہن بڑا صاف ستھرا تھا۔بشاشت سے پیش آتے۔تبسم آپ کے چہرے سے جھلکتا رہتا۔آپ زور کا قہقہ لگا کر نہیں ہنتے تھے خدا کے خوف سے فکر مند رہتے لیکن ترشروئی اور خشکی نام کو نہ تھی۔منکسر المزاج تھے لیکن اس میں کسی کمزوری یا پست ہمتی کا شائبہ تک نہ تھا۔بڑے سخی لیکن بے جا خرچ سے ہمیشہ بچتے تھے۔نرم دل۔رحیم و کریم تھے۔ہر مسلمان سے مہربانی سے پیش آتے۔اتنا پیٹ بھر کر نہ کھاتے کہ اباسیاں لیتے رہیں۔کبھی حرص وطمع کے جذبہ سے ہاتھ نہ بڑھاتے بلکہ صابر وشاکر اور کم پر قانع تھے۔(مشکوۃ) ۲۲ - عَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِي رَضِيَ اللهُ عنه قَالَ : أَخْرَجَتْ لَنَا عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا كِسَاءَ وَإِزَارًا غَلِيظًا قَالَتْ : قُبِضَ رَسُولُ الله ﷺ فِي هَذَيْنِ بخاری کتاب اللباس باب الاكسية) حضرت ابو موسیٰ اشعری بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ حضرت عائشہ نے ہمیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی موٹی کھدر کی چادر اور تہبند نکال کر دکھائی اور کہا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات کے وقت یہ کپڑے پہن رکھے تھے۔19