سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 294 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 294

سيرة النبي متر 294 جلد 4 جواب میں کہتا مجھے جنت کی بشارت نہ دو بلکہ دوزخ کی بشارت دو کیونکہ میں خدا کیلئے نہیں لڑا تھا بلکہ اپنے نفس کیلئے جنگ میں شامل ہوا تھا اور کفار کا میں نے اس لئے مقابلہ کیا تھا کہ میں نے بعض پرانے بدلے ان سے لینے تھے۔آخر جب درد کی شدت زیادہ ہو گئی تو اُس نے زمین میں ایک نیزہ گاڑا اور اس پر اپنا پیٹ رکھ کر خودکشی کر لی۔وہ صحابی جو اُس شخص کا انجام دیکھنے کیلئے اُس کے ساتھ لگے ہوئے تھے جب انہوں نے دیکھا کہ اُس نے خود کشی کر لی تو وہ رسول کریم ﷺ کے پاس آئے۔رسول کریم ہے اس وقت صحابہ میں لیٹے ہوئے تھے۔اُس صحابی نے آتے ہی بلند صلى الله آواز سے کلمہ شہادت پڑھا اور کہا میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ ایک ہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اُس کے رسول ہیں۔رسول کریم ﷺ نے بھی فرمایا میں بھی گواہی دیتا ہوں کہ خدا ایک ہے اور یہ کہ میں اُس کا رسول ہوں۔پھر آپ نے دریافت فرمایا تم نے یہ کلمہ شہادت کیوں پڑھا ہے؟ اُس نے عرض کیا يَا رَسُولَ اللہ ! جب آپ نے ایک شخص کے متعلق آج یہ کہا تھا کہ اگر کسی نے دنیا کے پردہ پر چلتا پھرتا دوزخی دیکھنا ہو تو وہ اس کو دیکھ لے تو مجھے محسوس ہوا کہ بعض لوگوں کے دل میں تر ڈر پیدا ہوا ہے۔اس وجہ سے میں اُس کے ساتھ ہی رہا تا کہ میں اُس کا انجام دیکھوں چنانچہ میں اب بتانے آیا ہوں کہ حضور کی بات درست نکلی اور اس نے خود کشی کر لی ہے 1۔تو دنیا میں انسان ادنیٰ سے ادنی چیز کیلئے بھی قربانیاں کر لیتا ہے۔دیکھنا یہ ہوتا ہے کہ وہ قربانی کس مقصد کیلئے کی جا رہی ہے۔جب قربانی کسی اعلیٰ مقصد کیلئے کی جا رہی ہو تو وہ قابل قدر ہوتی ہے لیکن وہی قربانی جب ادنیٰ مقاصد کیلئے کی جائے تو اُس کی حیثیت کچھ بھی نہیں رہتی۔ہجرت دیکھ لو کیسی اعلیٰ چیز ہے۔مگر رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں کہ مہاجر بھی ایک درجہ کے نہیں ہوتے بلکہ لوگ کئی چیزوں کیلئے ہجرت کرتے ہیں۔کوئی کسی عورت کیلئے ہجرت کرتا ہے، کوئی کسی کیلئے ، کوئی کسی کیلئے مگر فر مایا اصل ہجرت وہی ہے جو خدا تعالیٰ کیلئے کی جائے 2۔“۔الفضل 22 فروری 1961 ء )