سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 260 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 260

سيرة النبي علي 260 جلد 4 رسول کریم اللہ کی رحم دلی حضرت مصلح موعود 24 جولائی 1936ء کے خطبہ جمعہ میں فرماتے ہیں:۔مکہ والوں نے جب آنحضرت ﷺ کی تبلیغ کو سننے سے انکار کر دیا تو آپ کو خیال آیا کہ طائف کے لوگوں کو تبلیغ کروں۔مکہ کے بد باطن مخالفوں کو جب علم ہوا تو انہوں نے طائف والوں کے پاس آدمی بھیجا کہ اس شخص کیلئے ہم نے مکہ میں تو کوئی جگہ چھوڑی نہیں ہمیں امید ہے کہ تم لوگ اپنے مذہب کیلئے ہم سے کم غیرت مند ثابت نہ ہو گے۔طائف والوں نے جواب دیا کہ تم اسے یہاں آنے دو تم سے زیادہ بدسلوکی ہم کریں گے۔رسول کریم علی ہے جب طائف پہنچے تو ان لوگوں نے دھوکا سے آپ کو ایک جگہ بلایا کہ آپ کی باتیں سنیں گے اور ادھر شہر کے لڑکوں کو جمع کر لیا جن کی جھولیوں میں پتھر بھرے ہوئے تھے اور ساتھ کتے تھے۔جب آپ نے وہاں پہنچ کر بات شروع کی تو لڑکوں نے پتھر مارنے شروع کر دئیے اور کتے بھی چھوڑ دیئے گئے۔پھر آپ پر گرتے اور جسم اطہر پر زخم لگتے جاتے تھے اور خون بہتا جاتا تھا 1۔آپ واپس بھاگتے ہوئے کسی جگہ دم لینے کیلئے ٹھہرتے تو جسم اطہر سے خون پونچھتے جاتے اور ساتھ فرماتے اے میرے رب ! یہ لوگ نہیں جانتے میں کون ہوں تو انہیں معاف کر 2۔عربوں میں شرافت کا مادہ تھا اس لئے دشمن بھی بعض اوقات دل میں در دمحسوس کرتا تھا۔رستہ میں ایک عرب سردار کا باغ تھا جب اُس نے آپ کو اس حالت میں آتے دیکھا تو اس کے دل میں درد پیدا ہوا اور اپنے عیسائی غلام سے کہا انگور تو ڑ کر لے جاؤ اور اس شخص کو بلالا ؤ اور اسے بٹھا کر کھلاؤ۔چنانچہ غلام جا کر آپ کو بلا لایا، بٹھایا