سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 228 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 228

سيرة النبي علي 228 جلد 4 رسول کریم ﷺ کی اہل وعیال سے محبت حضرت مصلح موعود نے 11 جنوری 1936 ء کو حضرت مولانا غلام رسول صاحب را جیکی کی دو صاحبزادیوں کے نکاحوں کے اعلان کے موقع پر آنحضرت ﷺ کی صلہ رحمی کے بارہ میں فرمایا:۔رسول کریم میے کے متعلق احادیث میں آتا ہے ماں باپ تو آپ کے موجود نہ تھے مگر آپ کی رضاعی والدہ تھیں اور جب وہ تشریف لاتیں تو حضور دور ہی سے دیکھ کر تیز تیز دوڑ کر جاتے اور فرماتے امی امی اور اپنی چادر بچھا دیتے۔بیویوں کے ساتھ سلوک کے متعلق میں نے بتایا ہے کہ اس قدر خیال رکھتے جہاں سے بیوی برتن کو منہ لگا کے پانی پیتیں آپ بھی اسی جگہ پر منہ لگا کر پیتے 1۔حضرت عائشہ کے متعلق ایک واقعہ آتا ہے کہ ایک دفعہ ان کے سر میں درد تھا آنحضرت ﷺے گھر میں تشریف لائے تو انہوں نے فرمایا میرے سر میں درد ہے۔آپ نے فرمایا معمولی بات ہے انشاء اللہ آرام ہو جائے گا کوئی فکر کی بات نہیں۔حضرت عائشہ نے کہا آپ کا کیا ہے میں مرجاؤں گی تو آپ کسی اور سے شادی کر لیں گے۔آپ نے فرمایا عائشہ انہیں۔میں فوت ہو جاؤں گا صلى الله اور تم زندہ رہوگی 2۔چنانچہ نبی کریم ﷺ کی وفات آپ سے پہلے ہوئی۔پھر حضرت عائشہ فرماتی ہیں میں جب بھی یہ واقعہ یاد کرتی ہوں تو مجھے ہمیشہ اس بات سے دکھ ہوتا ہے کہ میں نے اس رنگ میں اُس وقت کیوں گفتگو کی۔اسی طرح اولاد کی محبت کے متعلق بھی نبی کریم ﷺ کا طریق نہایت ہی کامل نظر آتا ہے۔انبیاء در حقیقت اس بات کو دیکھتے ہیں کہ اولاد کی محبت خدا تعالیٰ کی ظلمی