سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 87
سيرة النبي عمال 87 جلد 4 اور اس نے کہا افسوس نہ کر میری طرف دیکھ جو چیز تیرے لئے ماضی ہے میرے لئے حال۔بے شک کمزور انسان ماضی کو نا قابلِ وصول سمجھتا ہے اور سمجھتا رہا ہے لیکن میرے سامنے ماضی اور مستقبل سب ایک سے ہیں۔جس وجود کو تو دیکھنا چاہتا ہے میں نے اس کے ماضی کو مستقبل سے بدل دیا ہے۔میری طرف سیدھا چلا آ تو اس کو میرے قرب میں، میری جنت کے اعلیٰ مقامات میں ، میرے کوثر کے کنارے پر اسی طرح میری نعتیں تقسیم کرتا ہوا پائے گا جس طرح تیرہ صدیاں گزریں۔دنیا کے لوگوں نے اسے ہر قسم کی نعمتیں تقسیم کرتے ہوئے پایا تھا۔کیوں وہ سب کے لئے رحمت نہ ہو کہ میں نے اسے پیدا ہی تقسیم کے کام کے لئے کیا تھا۔تبھی تو وہ ابو القاسم کہلایا اور تیمی تو اس نے منع کیا کہ کوئی شخص اس کی کنیت اختیار نہ کرے 18۔میں نے کہا اے میرے دل میں بولنے والے! میں تیرے ازلی حسن پر قربان۔بے شک میرا محمد رَحْمَةٌ لِلْعَلَمِینَ تھا لیکن تُو رَبُّ الْعَلَمِینَ ہے۔تیری رحمت کے قربان ، ماضی کے ایک منٹ کو کوئی واپس نہیں لا سکتا لیکن تو نے تیرہ صدیوں کے ماضی کو مستقبل بنا دیا اور وہ جسے ہم خیال کرتے تھے کہ پیچھے چھوڑ آئے ہیں اس کی آئندہ ملاقات کا وعدہ دلایا۔اے میرے محمد کے معشوق ! آمیرے دل میں بھی گھر کر لے۔تیرا حسن سب سے بالا ہے۔تیری شان سب سے نرالی۔اور یہ کہتے ہوئے میری ایک آنکھ سے ایک آنسو نکل پڑا۔وہ میرے رخسار پر ڈھلکا ہی تھا کہ میری ایک بیوی میرے کمرہ میں داخل ہوئی۔میں نے عشق کا راز فاش ہونے کے خوف سے جھٹ وہ آنسو پونچھ دیا ور نہ نہ معلوم اس کے کتنے اور ساتھی اس کے پیچھے چلے آتے۔“ (روز نامہ الفضل 26 نومبر 1933 ء) لحم السجدة: 38 2 قشعريره: لرزہ بدن کپکپی ( المنجد عربی اردوصفحہ 805 مطبوعہ کراچی 1974 ء) 3: بنی اسرائیل: 41