سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 433
سيرة النبي علي 433 جلد 3 معاہدات کی پابندی 27 دسمبر 1932ء کو جلسہ سالانہ قادیان میں تقریر کرتے ہوئے حضرت مصلح موعود نے فرمایا:۔د رسول کریم یہ معاہدات کی اس قدر پابندی کرتے تھے کہ جب آپ جنگ بدر کے لئے تشریف لے گئے تو صرف تین سو سپاہی آپ کے ساتھ تھے۔اُس وقت دو مسلمان مکہ سے بھاگ کر آپ کے لشکر میں آ ملے جو بڑے جری اور بہادر تھے۔تین سو کی تعداد کے لحاظ سے ان دو کی شمولیت بہت بڑی امداد تھی لیکن جب انہوں نے کہا کہ جس وقت ہم آ رہے تھے اُس وقت کفار نے ہمیں پکڑ لیا تھا اور پھر اس عہد پر چھوڑا کہ ہم ان کے مقابلہ پر نہ لڑیں گے مگر وہ کفار تھے ان سے معاہدہ کیا حقیقت رکھتا ہے تو رسول کریم ﷺ نے فرمایا نہیں اس کی پابندی ضروری ہے اور ان کو لڑائی میں شامل ہونے کی اجازت نہ دی 1۔اسی طرح رسول کریم ﷺ کے ایک داماد جب مسلمان ہو گئے تو وہ مکہ گئے اور جن کا مال ان کے پاس تھا ان سب کو واپس دے کر پھر آئے۔انہوں نے کہا میں اگر چاہتا تو مدینہ میں ہی رہ جا تا مگر میں اس لئے آیا کہ تم یہ نہ کہو مسلمان ہو گیا ہے اور دیانت سے کام نہیں لیا 2۔“ الفضل 15 جنوری 1933ء) 1: مسلم كتاب الجهاد والسير باب الوفاء بالعهد صفحه 797 حدیث نمبر 4639 مطبوعہ ریاض 2000 ءالطبعة الثانية