سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 220
سيرة النبي علي 220 جلد 3 رسول کریم مے کے ذریعہ ہر قسم کے علوم کی ترویج 29 دسمبر 1929 ء کے لیکچر بعنوان فضائل القرآن بر موقع جلسہ سالانہ میں حضرت مصلح موعود دفرماتے ہیں:۔ایک اور پیشگوئی اس وحی میں قرآن کے متعلق یہ کی کہ الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ 1 یعنی اس کتاب کے ذریعہ نہ صرف یہ ثابت ہو گا کہ تیرا رب سب سے بالا ہے اور باقی ساری ہستیاں اس کے تابع ہیں بلکہ ساتھ ہی یہ بھی ثابت ہوگا کہ الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ تیرے رب نے قلم کے ساتھ علم سکھایا ہے۔یعنی آئندہ تحریر کا عام رواج ہو جائے گا۔وہ مکہ جہاں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے وقت صرف سات آدمی پڑھے لکھے تھے ، جہاں کے بڑے بڑے لوگ لکھنا پڑھنا ہتک سمجھتے تھے ، شعراء اپنے شعر صرف زبانی یاد کراتے تھے اور اگر انہیں کہا جائے کہ اشعار لکھوا دیے جائیں تو اسے اپنی ہتک سمجھتے تھے اور اس پر فخر کرتے تھے کہ لوگ ان کے اشعار زبانی یاد رکھتے ہیں جب قرآن نازل ہوا تو ان میں ایک عظیم الشان تغیر آ گیا۔یہاں تک کہ صحابہ میں کوئی ان پڑھ نہ ملتا تھا۔سو میں سے سو ہی پڑھے لکھے تھے۔تو فرمایا الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ اس کتاب کے ذریعہ دوسرا عظیم الشان تغییر یہ ہو گا کہ لوگوں کی توجہ علوم کی طرف پھیر دی جائے گی۔چنانچہ آپ کی بعثت کے معا بعد لکھنے کا رواج ترقی پذیر ہوا۔صحابہ نے لکھنا پڑھنا شروع کیا۔مدینہ میں آپ نے سب بچوں کو تعلیم