سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 169 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 169

سيرة النبي علي 169 جلد 3 ممالک بھی مذہبی ، اخلاقی، علمی اور عملی حالت میں اچھے نہ تھے گویا ایک رات تھی جو سب دنیا پر چھائی ہوئی تھی۔اول تو پہلے مذاہب کی پاک تعلیموں کو ہی لوگوں نے بگاڑ دیا تھا دوم جو کچھ پہلی تعلیموں میں سے موجود تھا اس پر بھی عمل نہ تھا۔مذہب تو ایک بالا چیز ہے معمولی انسانیت بھی مردہ ہو چکی تھی اور شرافت مفقود ہو رہی تھی۔شرک و بدعت اور گندی رسوم، ایک دوسرے کا حق مارنا، فسق و فجور، ظلم قتل و غارت، بے شرمی اور بے حیائی، جہالت، ستی ، نکما پن، تفرقہ ، شراب خوری ، جوئے بازی، کبر خود پسندی، غرض ہر اک عیب اُس وقت موجود تھا اور اس کے مقابل کی ہر ایک نیکی مفقود تھی یہاں تک کہ بدی کا احساس بھی مٹ گیا تھا اور اس کے ارتکاب پر بجائے شرمندگی محسوس کرنے کے فخر کیا جاتا تھا۔اُس زمانہ میں پیدا ہو کر رسول کریم ﷺ نے اس قوم کو اپنی تربیت کے لئے چنا جو اس تاریک زمانہ میں بھی سب قوموں سے گناہ اور بدی میں بڑھی ہوئی تھی۔نظام حکومت اس کے اندر اس قدر مفقود تھا کہ اسے سب سے زیادہ فخر اپنی لا مرکزیت پر تھا۔اس قوم کے اندر اپنی پاکیزگی کی روح آپ نے پھونکنی شروع کی۔جیسا کہ قاعدہ ہے جس چیز کو جی نہ چاہے انسان اس کا مقابلہ کرتا ہے لوگوں نے آپ کا مقابلہ شروع کیا اور سخت ہی مقابلہ کیا مگر آپ استقلال اور صبر سے اپنا کام کرتے چلے گئے اور لوگوں کی مخالفت کی کچھ بھی پرواہ نہ کی۔ماریں کھائیں، گالیاں سنیں، طعنے سہے، سب کچھ برداشت کیا مگر دنیا کی گمراہی کو برداشت نہ کیا۔آخر ایک ایک کر کے لوگوں کے دلوں پر فتح پانی شروع کی۔سالہا سال تک یہ مقابلہ جاری رہا، بڑے بڑے قوی دل، دل ہار گئے مگر آپ نے دل نہ ہارا۔جس طرح پانی پہاڑوں کی چوٹیوں پر سے بہتے بہتے نرمی سے ، ملائمت سے اپنا راستہ نکال لیتا ہے اور آخرایسی نشیب والی جگہیں پیدا کر لیتا ہے جن پر سے وہ آسانی کے ساتھ بہہ سکے اسی طرح آپ نے اپنے نیک نمونہ سے اور مؤثر وعظ سے دنیا کی اصلاح کا کام جاری رکھا یہاں تک کہ وہ دن آگیا کہ پاکیزگی اور طہارت کی خوبی کے دل قائل ہو گئے۔