سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 4
سيرة النبي علي 4 جلد 3 قرض خواہ سے رسول کریم ﷺ کا حسن سلوک صل الله حضرت مصلح موعود 20 اپریل 1928ء کے خطبہ جمعہ میں فرماتے ہیں:۔ایک دفعہ آپ نے ایک یہودی سے قرض لیا یا ضرورتا کوئی چیز ادھار منگائی اور کچھ دنوں تک روپیہ ادا نہ کر سکے۔ایک دن وہ یہودی مسجد نبوی میں ہی آ گیا جہاں رسول کریم علے کے پاس اور مسلمان بھی بیٹھے ہوئے تھے۔مدینہ میں رسول کریم عیے کی حکومت تھی مگر چونکہ وہ جانتا تھا کہ آپ میہ کے اخلاق بہت بلند ہیں اس لئے اس نے مسجد میں آکر سختی سے مطالبہ شروع کیا حتی کہ گالیوں پر اتر آیا۔اس پر بعض صحابہؓ کو جوش آ گیا انہوں نے اٹھ کر مارنا چاہا مگر رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ نہیں اسے کچھ نہ کہوا سے حق حاصل تھا کہ مطالبہ کرتا کیونکہ اس کا مجھ پر قرض تھا 1۔اُس وقت بھی آپ کے پاس روپیہ نہ تھا مگر آپ نے فرمایا کہ فلاں شخص سے قرض لے آؤ تا کہ اس کا روپیہ ادا کیا جا سکے۔چنانچہ رو پید ادا کر دیا گیا۔اس بات کا ایسا اثر ہوا کہ وہ یہودی مسلمان ہو گیا۔اور کہنے لگا کہ میں صرف یہ دیکھنا چاہتا تھا کہ جس انسان کو رسالت کا دعوی ہے اس کے اخلاق کیسے ہیں۔تو جس کا کچھ دینا ہو اس کے مقابلہ میں آواز اٹھانا بڑی بے شرمی ہے۔چاہئے کہ انسان نرمی سے جواب دے، معذرت کرے اور جلد ادا کرنے کی فکر کرے۔“ (الفضل 27 اپریل 1928ء ) عليسة 1:بخارى كتاب الاستقراض باب لصاحب الحق مقال صفحه 385 حدیث نمبر 2401 مطبوعہ ریاض 1999 الطبعة الثانية