سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 66
سيرة النبي الله 66 جلد 2 رسول کریم ﷺ کا تعلق باللہ حضرت مصلح موعود نے 18 جون 1920ء کو قادیان میں خطبہ عید الفطر و ہوئے فرمایا:۔” ہم نے حضرت صاحب (سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود - ناقل ) کی زندگی کو دیکھا ہے ، نبی کریم ﷺ کی زندگی کو پڑھا ہے اور اولیائے امت کے حالات بھی پڑھے ہیں وہ مشکل سے مشکل اور آفت سے آفت میں یقین رکھتے ہیں کہ خدا ہمارے ساتھ ہے۔رسول کریم علیہ کا ایک واقعہ تاریخوں میں مذکور ہے۔ایک دفعہ حضرت رسول کریم وہ ایک جنگل میں سوئے ہوئے تھے آپ کی تلوار درخت سے لٹک رہی تھی کہ ایک بدوی آیا اور اس نے تلوار درخت سے اتار کر بے نیام کر لی اور آپ کے سر پر کھڑا ہو کر کہنے لگا تلوار تیرے قبضہ میں نہیں ، ساتھی تیرے پاس نہیں، بتا تجھ کو اب کون بچا سکتا ہے؟ رسول کریم ﷺ نے نہایت اطمینان سے فرمایا مجھ کو اللہ بچا سکتا ہے۔اس شخص کی نظر ظاہر پر تھی مگر محمد رسول اللہ ﷺ کی نظر باطن پر تھی اس لئے آپ کو کوئی خوف وخطر نہ تھا۔آپ نے سادگی اور اطمینان سے کہہ دیا مجھے خدا بچا سکتا ہے۔اس شخص پر اس بات کا اتنا اثر ہوا کہ وہ کانپ گیا تلوار اس کے ہاتھ سے گر گئی 1۔اُس وقت آپ نے تلوار اٹھالی اور کہا اب تو بتا تجھ کو کون بچا سکتا ہے؟ اس کو رسول کریم کا جواب سن کر بھی اس کی نقل کرنے کی جرات نہ ہوئی کیونکہ اس میں وہ بصیرت کہاں تھی اس لئے اس نے کہا کہ آپ ہی رحم کریں اور مجھے چھوڑ دیں 2 پس چونکہ رسول کریم ﷺ کا خدا تعالیٰ سے تعلق تھا اس لئے شمشیر برہنہ بھی آپ کے قلبی آرام صلى الله الله