سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 64 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 64

سيرة النبي الله 19 64 جلد 2 رسول کریم ﷺ کا بلند مقام اور ضروری نصیحت حضرت مصلح موعود 12 اپریل 1920 ء کے خطاب میں مستورات کو نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں:۔وو پھر میں تمہیں نصیحت یہ کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کے رسولوں پر ایمان رکھو۔سب صلى الله سے بڑے رسول محمد ملے ہیں ان سے بڑا درجہ کسی رسول کو نہ دو۔ہمارے ملک میں مسلمانوں نے اپنی جہالت سے حضرت عیسی کو بڑا درجہ دے رکھا ہے۔کہتے ہیں کہ صل الله حضرت عیسی تو آج تک زندہ ہیں اور محمد ﷺ فوت ہو گئے ہیں۔پھر کہتے ہیں حضرت عیسی مُردے زندہ کیا کرتے تھے مگر رسول کریم ﷺ نے کوئی مردہ زندہ نہیں کیا۔پھر صلى الله ان کے نزدیک حضرت عیسی تو آسمان پر زندہ بیٹھے ہیں لیکن رسول کریم زمین میں دفن ہیں۔حضرت عیسی کے متعلق اس قسم کی جتنی باتیں کہتے ہیں وہ غلط ہیں کیونکہ سب سے بڑا رسول محمد ﷺ ہے۔اگر۔۔۔۔کوئی رسول مُردوں کو زندہ کرتا تو وہ آپ ے ہوتے لیکن مسلمان نادانی سے اس قسم کی باتیں حضرت عیسی کی طرف منسوب کر کے ان کا درجہ رسول کریم ﷺ کے درجہ سے بڑھاتے ہیں۔تم ہرگز اس طرح نہ کرو اور سب سے بڑا درجہ رسول کریم ﷺ کا سمجھو۔ان کے تم پر بہت بڑے عروسة صلى الله احسان ہیں اس لئے ان پر ایمان لاؤ اور ان کے مقابلہ میں کسی اور کو کسی بات میں فضیلت نہ دو۔ان پر درود بھیجو۔درود دعا ہوتی ہے جس کا یہ مطلب ہوتا ہے کہ اے صلى الله خدا! رسول کریم ﷺ نے ہم پر جس قدر احسان کئے ہیں ان کا بدلہ ہم کچھ نہیں دے سکتے آپ ہی ان کو بدلہ دیں۔“ ( الفضل 16 اپریل 1920ء )